سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 752
۷۵۲ ایک دانہ نہیں آئے گا جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اجازت نہ دیں گے۔اپنے وطن میں پہنچ کر ثمامہ نے واقعی ملکہ کی طرف یمامہ کے قافلوں کی آمد ورفت روک دی اور چونکہ مکہ کی خوراک کا بڑا حصہ یمامہ کی طرف سے آتا تھا اس لئے اس تجارت کے بند ہو جانے سے قریش مکہ سخت مصیبت میں مبتلا ہو گئے اور ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ انہوں نے گھبرا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خط لکھا کہ آپ ہمیشہ صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں اور ہم آپ کے بھائی بند ہیں۔ہمیں اس مصیبت سے نجات دلائیں۔" اس وقت قریش مکہ اس قد رگھبرائے ہوئے تھے کہ انہوں نے صرف اس خط پر ہی اکتفا نہیں کی بلکہ اپنے رئیس ابوسفیان بن حرب کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھجوایا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر زبانی بھی بہت آہ و پکار کی اور اپنی مصیبت کا اظہار کر کے رحم کا طالب ہوا۔جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ بن اثال کو ہدایت بھجوادی کہ قریش کے ان قافلوں کی جن میں اہل مکہ کی خوراک کا سامان ہوروک تھام نہ کی جاوے۔چنانچہ اس تجارت کا سلسلہ پھر جاری ہو گیا اور مکہ والوں کو اس مصیبت سے نجات ملی۔یہ واقعہ جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے نظیر شفقت اور رحم اور عفو کا ایک بین ثبوت ہے وہاں اس بات کو بھی ثابت کرتا ہے کہ شروع شروع میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے قافلوں کی روک تھام کا سلسلہ شروع کیا تھا تو اس کی اصل غرض و غایت یہ نہیں تھی کہ قریش کو قحط میں مبتلا کر کے تباہ کیا جائے بلکہ اصل مقصد یہ تھا کہ مدینہ کے قرب و جوار کو قریش کے خطرہ سے محفوظ کر لیا جائے۔اس واقعہ سے یہ بھی استدلال ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیم کی رو سے حربی دشمن کے متعلق بھی یہ بات پسندیدہ نہیں ہے کہ عام حالات میں اس کے سلسلہ رسل و رسائل کو اس حد تک بند کر دیا جائے کہ وہ نان جویں تک سے محروم ہو جائے۔ہاں سامان حرب کی آمد و رفت یا ضروری سامان خور و نوش کے علاوہ دوسری اشیاء کی برآمد و درآمد کا سلسلہ جنگی ضروریات کے ماتحت روکا جاسکتا ہے اور اگر یہ صورت ہو کہ دشمن مسلمانوں کی خوراک کے سلسلہ کو روکے تو پھر قرآن کی اصولی تعلیم جز و ا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا" کے ماتحت اس کے اس سلسلہ کو بھی روکنا جائز ہوگا۔جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے ثمامہ بن اثال اپنے علاقہ کا ایک ذی اثر رئیس تھا۔اس کی پر جوش تبلیغ کے بخاری ومسلم سے نسائی و حاکم و بیہقی بحوالہ زرقانی جلد۲ صفحه ۱۴۶ حالات سریہ قرطا : ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۹۲ : سورة الشورى : ۴۱