سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 60
۶۰ شاعر کے سر نکالنے پر اور تیسرے عمدہ چھیرے کے پیدا ہونے پر یا اس مختصر فقرہ میں عربی زندگی کا پورا نقشہ آ جاتا ہے۔عرب میں شعراء گویا ملک کے لیڈر سمجھے جاتے تھے۔اُن کو یہ طاقت حاصل تھی کہ اپنے کلام کے زور سے دو قبائل کے درمیان جنگ کرا دیں اور ملک میں آگ لگا دیں۔عرب کے خاص خاص مقامات میں شعراء جمع ہو کر طبع آزمائیاں کرتے تھے۔عکاظ جو نخلہ اور طائف کے درمیان مکہ سے مشرق کی طرف ایک شاداب جگہ ہے ایسے میلوں کے لئے زمانہ جاہلیت میں خاص شہرت رکھتا تھا۔یہاں ہر سال ذی قعدہ میں میلہ لگتا تھا اور دُور دراز سے لوگ جمع ہوتے تھے اور علاوہ دوسری باتوں کے مختلف قبائل عرب کے درمیان فصاحت و بلاغت اور شاعری کے مقابلے بھی ہوا کرتے تھے۔فتح مکہ کے بعد جب تمام اطراف عرب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مختلف قبائل کے وفد حاضر ہوئے تو اُن میں سے بنو تمیم نے جو معیار صداقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا اس سے ملک عرب میں شاعری کی حیثیت کا پتہ چلتا ہے۔انہوں نے بجائے اور دلیلوں میں پڑنے کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم تو صرف اس لیے آئے ہیں کہ آپ کے اور اپنے شاعر کا مقابلہ کرا کے دیکھیں ؛ چنانچہ انہوں نے اپنا شاعر کھڑا کر دیا جس نے اپنے قبیلہ کی تعریف میں چندا شعار کہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی طرف سے حسان بن ثابت انصاری کو کھڑے ہونے کا ارشاد فرمایا جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی تعریف میں چند زوردار شعر کہے جن کی فصاحت کا لوبا بنو تمیم و ماننا پڑا اور اس کے بعد یہ قبیلہ مسلمان ہو گیا۔عادات اور قومی خصائل عرب کے گندے خصائل میں سے ان کی تین عادتیں خاص امتیاز رکھتی تھیں۔شراب خوری ، قمار بازی اور زنا۔ملک میں ان کی اتنی کثرت تھی کہ خدا کی پناہ اور اس پر تعجب یہ ہے کہ عموماً ان کو جائے فخر سمجھا جاتا تھا؛ چنانچہ زمانہ جاہلیت کے شاعر بڑے مزے لے لے کر ان سیہ کاریوں کے متعلق اپنے کارنامے سُناتے ہیں بلکہ اس قسم کے ذکر کے بغیر عربوں میں شعر کی کچھ حقیقت ہی نہ سمجھی جاتی تھی ، چنانچہ یہ ضروری خیال کیا جاتا تھا کہ قصیدہ کے شروع میں خواہ وہ کسی غرض سے کہا گیا ہو شاعر چند کھلی کھلی باتوں میں اپنی اصل یا مفروضہ معشوقہ کا ذکر کرے اور اس کے ساتھ اپنی چند مجلسوں کے کارنامے سُنائے۔کعب بن زہیر ایک مشہور شاعر تھا وہ ل : المزهر مصنفه امام سیوطی۔: ابن هشام ذكر وفد بنو تميم -