سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 59
۵۹ سال پہلے شام کے ساتھ حجاز و یمن کی تجارت کا سلسلہ پھر شروع ہوا۔گو اس پہلے پہیا نہ پر تو نہ تھا اور نہ ہوسکتا تھا لیکن پھر بھی ملک میں اس سے کچھ جان آگئی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قریش مکہ کے تجارتی قافلے با قاعدہ شام اور یمن کی طرف آتے جاتے تھے اور بعض اوقات عرب کے دوسرے حصوں کی طرف بھی جاتے تھے مگر اس زمانہ میں قریش مکہ کی بڑی تجارت شام سے تھی۔مکہ سے شام کی طرف جانے کا زیادہ مستعمل راستہ بحر احمر کے ساتھ ساتھ شمال کو جا تا تھا۔میثرب کا شہر جس نے بعد میں مدینہ کا نام پایا اسی راستہ کے قرب میں واقع تھا۔شامی راستہ پر وہ مقام جہاں سے مدینہ کا راستہ مشرق کی طرف الگ ہو جاتا تھا بدر ہے جہاں مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان سب سے پہلی لڑائی ہوئی۔بر آمد کا مال عموماً قیمتی دھاتوں ، موتیوں، جانوروں کی کھالوں ، گرم مصالحہ جات اور خوشبو دار چیزوں پر مشتمل ہوتا تھا۔اور جیسا کہ قیاس کیا جاتا ہے درآمد بالعموم غلہ۔پار چات۔سامانِ حرب۔شراب اور کھانے کی خشک چیزوں پر مشتمل تھی۔عرب میں قاعدہ تھا کہ سال کے مختلف حصوں میں ملک کے مختلف مقاموں میں تجارتی میلے لگا کرتے تھے جن میں دور دراز سے تاجر لوگ آ کر شامل ہوتے اور تجارت کرتے تھے۔ان میلوں کے لیے قرب شام میں دومتہ الجندل بحرین میں مشقر ، عمان میں دبا ، یمن میں صنعا اور حجاز میں عکاظ خاص شہرت رکھتے تھے۔تعلیم اور قدیم شاعری تعلیم عرب میں تھی تو سہی مگر بہت ہی کم تھی۔سوائے خاص خاص اشخاص کے سارا ملک ان پڑھ تھا اور یہ چند خواندہ لوگ بھی زیادہ تر شہروں میں آباد تھے، مگر باوجود اس جہالت کے عربوں کو اپنی فصاحت اور بلاغت پر بڑا گھمنڈ تھاحتیٰ کہ عرب اپنے سوا باقی تمام دنیا کو عجمی یعنی گنگ کہتے تھے اور اس میں شک نہیں کہ زبان کی فصاحت میں عرب کو واقعی حد درجہ کمال حاصل تھا۔زمانہ جاہلیت کے شعراء کا کلام آج تک محفوظ ہے اس کے اندر جو فصاحت و بلاغت ، جو زور اور جوش و خروش ، جو آزادانہ زندگی کی جھلک اور طبعی بہاؤ کی لہریں نظر آتی ہیں وہ کسی اور قوم اور کسی اور وقت کی شاعری میں کم ملیں گی۔اور ان لوگوں میں یہ ایک خصوصیت تھی کہ اپنے دلی خیالات کو نہایت بے تکلفی کے ساتھ بالکل تنگی زبان میں کہہ جاتے تھے کوئی تصنع نہیں کوئی بناوٹ نہیں طبیعت پر کوئی زور نہیں۔اسی لیے اُن کا کلام ان کے خیالات۔جذبات اور عادات کی پوری پوری ترجمانی کرتا ہے۔عرب قوم اپنی اس خوبی کو خود بھی خوب سمجھتی تھی ، چنانچہ ایک مؤرخ نے لکھا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عرب ایک دوسرے کو صرف تین موقعوں پر مبارکباد کہتے تھے۔اول کسی لڑکے کی ولادت پر۔دوسرے کسی