سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 711 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 711

مدنی زندگی کے پہلے دور کا خاتمہ اور اسلامی طریق حکومت ایک نئے دور کا آغاز غزوہ بنو قریظہ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی کے پہلے دور اور ہماری کتاب کی دوسری جلد کا خاتمہ ہوتا ہے۔یہ دور کن حالات میں گزرا؟ اسلام کی حفاظت کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کن کن مصائب کا سامنا کرنا پڑا؟ مسلمانوں پر کیسی کیسی نازک گھڑیاں آئیں؟ اندرونی اور بیرونی خطرات نے کیا کیا مہیب صورتیں اختیار کیں ؟ ان سولات کا کسی قدر مفصل جواب اوپر گذر چکا ہے۔یہ کہنا بالکل بے جا نہ ہو گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی کا پہلا دور ایک مسلسل زلزلہ کا رنگ رکھتا تھا جو پانچ سال کے طویل عرصہ میں جسے مصائب نے احساسی طور پر اور بھی لمبا کر دیا تھا مدینہ کی سرزمین کو خطر ناک طور پر جنبش دیتارہا اور اس زلزلہ کے بعض دھکے اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایسے تباہ کن تھے کہ اگر خدا کی نصرت شامل حال نہ ہوتی تو یقیناً یہ دھکے مدینہ کی سرزمین کو بالکل تہ و بالا کر کے مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے خاک میں سلا دیتے اور جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں اس زلزلہ کے آتش فشاں منبع کی ایک شاخ یہود کے قلعوں میں ہو کر عین مدینہ کی دیواروں کے نیچے پہنچی ہوئی تھی۔اس زلزلہ کا سب سے بڑا دھکا غزوہ احزاب میں پیش آیا جبکہ خونخوار اتحادیوں کے جنگی نعروں اور ان کے عربی گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سے مدینہ کی زمین گویا لفظا لرزہ کھا گئی تھی اور مسلمانوں کے کلیجے منہ کو آنے لگے تھے اور اس زلزلہ کو بدعہد یہود کی غداری نے اور بھی زیادہ خطرناک صورت دے دی تھی لیکن جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے یہ حملہ کفارمکہ کی عداوت کا آخری نقطہ ثابت ہوا جس کے بعد گوان کی دلی عداوت اور فتنہ انگیزی تو اسی طرح قائم رہی مگر انہیں مدینہ پر حملہ آور ہونے کی توفیق نہیں ملی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی کہ الآنَ نَغْزُوُهُمْ وَلَا يَغْزُونَنَا