سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 710
21• کے لئے آزادہ ہو جاوے تو اس صورت میں باہم رضامندی کے ساتھ پہلا خاوند اپنی سابقہ بیوی کے ساتھ پھر نکاح کرسکتا ہے۔اور اس قانون میں حکمت یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو یکے بعد دیگرے تین دفعہ طلاق دے چکتا ہے تو اس لیے تجربہ کے بعد یہی سمجھا جائے گا کہ اب ان کی اہلی زندگی کسی صورت میں خوشگوار نہیں رہ سکتی۔اس لئے اب انہیں پھر اکٹھے ہو کر ایک مزید تلخ تجربہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ کامل طور پر علیحدہ ہو جانا چاہئے اور ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے ہونے کا خیال دل سے نکال دینا چاہئے لیکن اگر اس کے بعد عورت کسی اور مرد کے نکاح میں آئے اور اس کے ساتھ متا ہلا نہ زندگی گزارے اور پھر کسی حقیقی اور جائز وجہ سے اس نئے خاوند سے اس کی علیحدگی ہو جائے یا اس کا نیا خاوند فوت ہو جائے اور اس کے بعد وہ اور اس کا سابقہ خاوند باہم رضامندی کے ساتھ پھر ا کٹھے ہونا چاہیں تو ان کے رستے میں کوئی روک نہیں ہونی چاہئے۔کیونکہ علاوہ اس کے کہ ان کی شادی میں کوئی امر اصولا مانع نہیں ہے ایسی صورت میں یہ امید کرنا ہر گز بعید از قیاس نہیں کہ اب وہ ایک دوسرے کے ساتھ نبھاؤ کر سکیں گے کیونکہ ایک عرصہ تک ایک دوسرے سے الگ رہنے اور اس عرصہ میں ایک تیسرے شخص کے ساتھ معاملہ پڑنے کے نتیجہ میں ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی قدر پیدا ہو جانا بالکل ممکن اور قرین قیاس ہے اور یہ مسئلہ بھی دراصل اسلام نے اس غرض سے خاص طور پر بیان کیا ہے کہ اگر ایک طرف اہلی زندگی کے تلخ تجربات کے سلسلہ کو محدود کیا جاوے تو دوسری طرف لوگوں میں اس خیال کا بھی سد باب کیا جاوے کہ گویا تین طلاقوں کا وجود اپنی ذات میں کوئی حرمت کی وجہ ہے اور یہ کہ تین طلاقوں کے بعد خاوند بیوی کے اکٹھے ہونے کی کوئی صورت ہی نہیں ہے۔علاوہ ازیں تین طلاقوں کے بعد بھی تجدید نکاح کا دروازہ کھلا رکھنے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ تا اس سے لوگوں میں نکاح کے تقدس اور دوام کا احساس پیدا کیا جاوے اور یہ خیال قائم کیا جاوے کہ جب دومرد وعورت کا ایک دفعہ آپس میں ازدواجی تعلق قائم ہو جاوے تو پھر انتہائی کوشش اس تعلق کے نبھانے کی ہونی چاہئے اور اگر کسی وجہ سے درمیان میں یہ تعلق ٹوٹ بھی جاوے اور اس کا پھر قائم ہونا محال بھی ہو جاوے تو پھر بھی آئندہ چل کر کوئی ایسا موقع جبکہ جائز طور پر اس تعلق کے دوبارہ جوڑے جانے کی امید ہو سکے ضائع نہیں جانے دینا چاہئے۔پس میور صاحب نے جس مسئلہ کو ایک غلط اور نا پاک صورت دے کر اس پر اعتراض کیا ہے وہ دراصل اپنی حقیقی صورت میں اسلامی تعلیم کی ایک بہت بڑی خوبی ہے جسے افسوس ہے کہ سرولیم کی آنکھ دیکھ نہیں سکی۔-