سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 712 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 712

۷۱۲ ( یعنی ان لوگوں کی فتنہ انگیزی اور دشمنی کی وجہ سے آئندہ ہمیں تو ان کے خلاف فوج کشی کے موقعے ملتے رہیں گے مگر انہیں ہمارے خلاف مدینہ پر چڑھائی کرنے کی توفیق نہیں ملے گی ) حرف بحرف پوری ہوئی اور اس طرح مدنی زندگی کے پہلے اور دوسرے دور میں ایک مابہ الامتیاز قائم ہو گیا۔علاوہ ازیں چونکہ بنو قریظہ کے خاتمہ کے ساتھ مدینہ میں یہودی آبادی کا بھی خاتمہ ہو گیا تھا اور اس کے بعد مدینہ کے شہر میں سوائے مسلمانوں یا مسلمان کہلانے والے منافقوں یا مسلمانوں کے توابع کے اور کوئی قوم باقی نہیں رہی تھی جو مسلمانوں کے مقابلہ پر کھڑی ہو سکتی یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے بر ملا سرتابی کرنے کی جرات کرتی۔اس لیے اس وقت سے مدینہ میں ایک خالص اسلامی حکومت کی بنیاد بھی قائم ہوگئی۔گویا اس نئے دور کی جو غزوہ بنو قریظہ کے بعد سے شروع ہوا، دو نمایاں خصوصیات تھیں۔اوّل کفار کے ان حملوں کا جو مدینہ کے خلاف ہوتے تھے ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا اور اس کے نتیجہ میں میدان کارزار مدینہ کے قرب و جوار سے ہٹ کر دور دراز کے علاقوں کی طرف منتقل ہو گیا۔دوم مدینہ کا شہر سیاست وحکومت کے لحاظ سے ایک خالص اسلامی سلطنت کی صورت اختیار کر گیا جس میں کسی غیر حکومت یا غیر قوم یا غیر مذہب کا دخل نہیں تھا۔اور پھر یہی مرکزی حکومت آہستہ آہستہ وسعت اختیار کر کے بالآخر دنیا کے ایک بڑے حصہ پر چھا گئی۔یہ محیر العقول تغیر پانچ سال کے قلیل عرصہ میں کس طرح ممکن ہو گیا ؟ اس سوال کا حقیقی جواب اس دنیا کے مادی علوم کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا اور اسے پوری طرح وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو روحانی تصرفات کا علم رکھتا ہو اور اس خدائی سنت سے واقف ہو جو قدیم سے نبیوں کے ساتھ رہی ہے مگر یہ امور تاریخ کا حصہ نہیں ہیں۔ظاہری اسباب کے لحاظ سے جو باتیں مسلمانوں کی اس بے نظیر کامیابی کا باعث سمجھی جاسکتی ہیں ان میں مندرجہ ذیل باتیں خاص طور پر نمایاں اثر رکھتی تھیں۔مسلمانوں کا اتحاد، ان کی تنظیم ، ان کا اپنے مقصد کے لیے بے نظیر استقلال۔ان کی قربانی کی روح۔اُن کا یہ کامل یقین کہ ہم حق وصداقت کی خاطر لڑ رہے ہیں۔ان کا یہ گہرا احساس کہ ہم اس قدر بے سروسامان ہیں کہ جب تک ہم اپنی انتہائی طاقت کو بے دریغ صرف کر دینے کے لیے تیار نہیں ہونگے ہماری حفاظت کی کوئی صورت نہیں ہے۔اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے نظیر مقناطیسی شخصیت اور اعلیٰ درجہ کی جنگی تدابیر وغیر ذالک۔ان تاثیرات نے مسلمانوں کی مٹھی بھر جماعت میں وہ طاقت بھر دی تھی جسے عرب کی لا تعدا د افواج کا نہایت وحشیانہ مظاہرہ بھی مغلوب نہیں کر سکا اور اس پانچ سالہ جنگ کے نتیجہ میں کفار عرب نے اس بات کو یقینی طور پر سمجھ لیا کہ اب مدینہ پر