سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 696 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 696

۶۹۶ آپ پانچ دن بیٹھ کر نماز ادا فرماتے رہے۔فنون سپاہ گری کی طرف آپ کی توجہ اس سال آپ نے جنگی ضروریات کے ماتحت بعض گھڑ دوڑیں کروائیں ہے اور ویسے یہ تحریک تو آپ صحابہ میں ہمیشہ فرماتے رہتے تھے کہ وہ گھوڑے رکھیں اور سواری کے فن میں کمال پیدا کریں اور جہاد کی غرض وغایت کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ اسے ایک بڑا کار ثواب خیال فرماتے تھے۔تے چنانچہ جن صحابہ کو توفیق تھی وہ خاص شوق کے ساتھ گھوڑے پالتے تھے اور ایک روایت میں یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ صحابہ کرام گھوڑوں کی کدائی کی مشق بھی کیا کرتے تھے۔" اسی طرح آپ اونٹوں کی دوڑ بھی کروایا کرتے تھے چنانچہ خود آپ کی اپنی ایک اونٹنی تھی جو عموما سب سے آگے رہتی تھی۔دراصل آپ کا یہ عام طریق تھا کہ آپ جسمانی ورزش اور تحصیل فنون سپاہ گری کی طرف اپنے صحابہ کو بہت توجہ دلاتے رہتے تھے اور بعض اوقات ان میں جوش پیدا کرنے کے لئے خود بھی ایسے موقعوں پر حصہ لیتے تھے۔چنانچہ بعض اوقات آپ نے اپنے سامنے تیراندازی اور تلوار اور نیزے کے کرتبوں کے مقابلے کرائے۔آپ یہ بھی تحریک فرماتے تھے کہ مسلمانوں کو چست ہو کر اور تیز تیز چلنا چاہئے۔تاکہ دشمن پر ان کی مضبوطی اور چستی کا رعب پڑے اور خود بھی ان میں چستی کا احساس پیدا ہو۔جنگی ضروریات کے لئے بعض صحابہ تیز دوڑنے کی بھی مشق کیا کرتے تھے۔چنانچہ اس معاملہ میں ایک صحابی سلمہ بن اکوع خاص طور پر ماہر تھے حتی کہ بعض روایات سے پتا لگتا ہے کہ بعض اوقات وہ گھوڑوں سے بھی آگے نکل جاتے تھے۔دو ایک دفعہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت عائشہ کے ساتھ دوڑنے کا مقابلہ کیا تھا اور گو یہ خوش مزاجی کے طریق پر ہو مگر اس سے اس زندہ اور چست روح کے اندازہ ل خمیس جلد اصفحه ۵۶۵ نیز موطا باب صلوۃ الامام وَهُوَ جَالِسٌ - : خمیس جلد اصفحه ۵۶۵ - نیز بخاری کتاب الجہاد باب غایۃ السبق الخیل بخاری کتاب الجہاد باب من احتبس فرساً بخاری کتاب الجہاد باب ناقتہ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بخاری کتاب الجہاد باب التحريض على الرمی و باب الدرق کے بخاری کتاب المغازی باب عمرة القضاء ابوداؤ د باب السبق خمیس جلد اصفحه ۵۶۵ : اصابه حالات سلمہ بن اکوع