سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 697
۶۹۷ کرنے کا موقع ملتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابی میں کام کرتی تھی اور جس سے ان کی مستورات بھی خالی نہیں تھیں۔اسلامی قانون شادی و طلاق شادی اور طلاق وغیرہ کے مسائل کے متعلق بھی بہت سے اسلامی احکام اسی سال نازل ہوئے۔اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر ایک مختصر سا خاکہ شادی اور طلاق کے مسائل کے متعلق اسلامی تعلیم کا پیش کر دیا جاوے۔وسب سے پہلے تو یہ جاننا چاہئے کہ اسلام سے قبل عربوں میں کوئی خاص قانون شادی وطلاق مقرر نہیں تھا بلکہ محض ایک رسم یا طریق عمل کی صورت تھی اور اس کی پابندی بھی ہر شخص کی اپنی مرضی پر موقوف تھی اور اسی لئے ملک کے مختلف حصوں اور مختلف قبائل میں یہ طریق عمل مختلف صورتیں رکھتا تھا۔عام طور پر یہ سمجھنا چاہئے کہ عرب میں جائز و نا جائز رشتوں میں زیادہ حد بندی نہیں تھی۔حتی کہ سوتیلی ماں تک سے شادی کرنے میں پر ہیز نہیں تھا لے قریبی رشتہ دار کی بیوہ پر بغیر اس کی مرضی کے زبردستی قبضہ کر لینے کی رسم بھی پائی جاتی تھی۔یہ نکاح کے طریق مختلف تھے اور ان میں سے چار زیادہ شائع ومتعارف تھے۔ان میں سے ایک تو یہی رسمی نکاح تھا جو بعد میں زیادہ پاک وصاف ہوکر اسلام میں قائم ہوالیکن باقی تین ایسے گندے اور ناپاک تھے کہ ان کے ذکر تک سے انسانی طبیعت رکتی ہے۔۔تعدد ازدواج کی کوئی حد بندی نہیں تھی بلکہ بیویوں کی تعداد ہر شخص کی ذاتی ضرورت۔دولت اور شوق پر منحصر تھی ہے بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کا کوئی ضابطہ نہیں تھا اور نہ ہی اس کے متعلق خاوند پر کوئی پابندی تھی۔مرد کے عورت پر اور عورت کے مرد پر کوئی مقررہ حقوق نہیں تھے بلکہ سارا دارو مدار مرد کی مرضی پر تھا۔طلاق کا کوئی قانون نہیں تھا۔مرد جب اور جس طرح چاہتا تھا عورت کو طلاق دے کر الگ کر دیتا تھا۔اگر مرد کی مرضی نہ ہو تو عورت کے لئے طلاق حاصل کرنے کا کوئی رستہ نہیں تھا۔طلاق کے بعد بھی جابر لوگ اپنی مطلقہ عورت پر حکومت رکھتے تھے اور اسے دوسری جگہ شادی کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔عدت کا قانون بھی کوئی نہیں تھا بلکہ ادھر جدائی ہوتی تھی اور ادھر عورت دوسرے شخص کے ساتھ شادی کے لئے قرآن شریف سورة النساء : ۲۳ بخاری کتاب النکاح باب مَنْ قَالَ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِي : سورۃ النساء : ۲۰ ترندی ابواب النکاح باب مَا جَاءَ فِى الرَّجُل يَسْلِمُ وَعِندَهُ عَشَرُ نِسْوَةٍ ۵: سورة البقرة : ۲۳۳