سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 695 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 695

۶۹۵ اور کبھی کسی انسان کے کان نے انہیں نہیں سنا اور نہ ان کا تصور کبھی کسی بشر کے دل میں گزرا ہے۔‘ پس لا ز ماماننا پڑے گا کہ جنت کی نعمتیں وہ نعمتیں نہیں جو ہم اس دنیا میں دیکھتے ہیں۔یعنی جنت کے پھل وہ پھل نہیں جو ہم اس دنیا میں کھاتے ہیں اور جنت کے دودھ اور شہد وہ دودھ اور شہد نہیں جو ہم اس دنیا میں پیتے ہیں اور جنت کی حوریں وہ حوریں نہیں جو ہم اس دنیا میں خوبصورت عورت کے معنوں میں سمجھتے ہیں بلکہ وہ کچھ اور ہی چیزیں ہیں جن کو بطریق استعارہ اس دنیا کی چیزوں کا نام دے دیا گیا ہے مگر جن کا وہم و تصور بھی ہمارے خیال میں نہیں آسکتا۔لیکن اس قدر بہر حال یقینی ہے کہ جنت کی سب نعمتیں خواہ وہ انسانی روح کے واسطے ہوں یا جسم کے لئے وہ خالص پاکیزگی اور طہارت پر مبنی ہیں اور ہر قسم کی بدی اور ناپاکی کے عنصر سے کلیتا پاک ہیں کیونکہ قرآن شریف فرماتا ہے لَا لَغُو فِيهَا وَلَا تَأْثِيم ا یعنی ” جنت وہ مقام ہے کہ اس میں کوئی عنصر بے ہودگی اور بدی اور ناپاکی کا نہیں ہو گا۔“ ۵ ہجری کے بعض متفرق واقعات اس سال میں بعض متفرق واقعات بھی ہوئے جن کی معین تاریخ روایات میں مذکور نہیں ہوئی۔ان میں سے ایک واقعہ ایک زلزلہ کا آنا ہے۔جب یہ دھکا مدینہ میں محسوس ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو نصیحت فرمائی کہ یہ قدرت کے واقعات ہیں جن سے ایک مومن کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ بعض اوقات اس قسم کے واقعات لوگوں کے بیدار کرنے کے لئے پیدا کر دیتا ہے اور ان کو ہوشیار و چوکس رکھنا چاہتا ہے۔بعض روایات کے مطابق اسی سال حج فرض ہوا لیکن جمہور علماء کے نزدیک یہ روایات درست نہیں ہیں بلکہ حج کی باقاعدہ مشروعیت کا زمانہ بعد کا ہے گوجیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے عید اضحی جو حج کے ساتھ لازم وملزوم کے طور پر ہے ۲ ہجری میں ہی مشروع ہوگئی تھی اور صحیح روایات سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ مسلمان شروع سے ہی خانہ کعبہ کی حرمت کا خیال رکھتے تھے اور نفل وغیرہ کے طریق پر کعبتہ اللہ کا طواف بھی موقع پا کر کرتے رہتے تھے مگر فریضہ حج کی باقاعدہ اور بالتفصیل مشروعیت غالباً بعد میں ہوئی تھی کے اس لئے ہم اس بحث کو اس جگہ ترک کرتے ہیں۔اسی سال یعنی ۵ ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ گھوڑے پر سے گر گئے اور آپ کی پنڈلی اور ران وغیرہ پر چوٹیں آئیں جس کی وجہ سے ۲: خمیس جلد اصفحه ۵۶۵ : سورۃ طور : ۲۴ س زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۴۳۔نیز زاد المعاد جلد اصفحه ۱۸۰