سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 634
۶۳۴ روایت کرتی ہیں کہ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق تھا کہ جب آپ کسی سفر پر جانے لگتے تھے تو اپنی ازواج میں قرعہ ڈالتے تھے پھر جس کا نام نکلتا تھا اسے اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے ایک غزوہ کے موقع پر اسی طرح قرعہ ڈالا تو میرا نام نکلا۔چنانچہ مجھے آپ اپنے ساتھ لے گئے۔یہ اس زمانہ کی بات ہے کہ جب پردہ کے احکام نازل ہو چکے تھے۔چنانچہ اس سفر میں میں ہودہ کے اندر بیٹھتی تھی اور لوگ میرے ہودہ کو اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے تھے اور جہاں قیام کرنا ہوتا تھا وہاں میرے ہودہ کو اتار کر نیچے رکھ دیتے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس غزوہ سے فارغ ہو کر واپس لوٹے اور ہم مدینہ کے قریب پہنچے تو ایک دن آپ نے رات کے وقت کوچ کا حکم دیا۔جب میں نے یہ اعلان سنا تو میں حوائج انسانی سے فارغ ہونے کے لئے لشکر سے باہر نکل کر ایک طرف کو گئی اور فارغ ہو کر واپس لوٹ آئی۔جب میں اپنے اونٹ کے قریب پہنچی تو میں نے معلوم کیا کہ میرے گلے کا ہار ندارد ہے۔اس کی تلاش میں میں پھر واپس آگئی اور اس تلاش میں مجھے کچھ دیر ہو گئی۔اس اثنا میں وہ لوگ جو میرا ہودہ اٹھانے پر متعین تھے آئے اور یہ خیال کر کے کہ میں ہودہ کے اندر ہوں انہوں نے میرا ہودہ اٹھا کر اونٹ کے اوپر رکھ دیا اور لشکر کے ساتھ روانہ ہو گئے۔چونکہ اس زمانہ میں بوجہ کم خوری اور تنگی معیشت کے عورتیں بہت دبلی پتلی ہوتی تھیں اور ان کے بدنوں پر گوشت نہیں آتا تھا اس لئے ہودہ اٹھانے والوں کو ہودہ کے ہلکا ہونے کا شبہ نہیں گزرا اور پھر میری عمر بھی اس وقت بہت چھوٹی تھی۔بہر حال جب میں ہار کی تلاش کر لینے کے بعد واپس آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ لشکر جاچکا ہے اور میدان خالی پڑا ہے۔میں سخت پریشان ہوئی مگر میں نے دل میں سوچا کہ مجھے اپنی جگہ پر ٹھہرے رہنا چاہئے کیونکہ جب لوگوں کو میرے پیچھے رہ جانے کا علم ہوگا تو وہ ضرور واپس آئیں گے۔پس میں اپنی جگہ پر جا کر واپس بیٹھ گئی اور بیٹھے بیٹھے مجھے نیند آ گئی۔اب واقعہ یوں ہوا کہ صفوان بن معطل ایک صحابی تھا جس کی ڈیوٹی یہ مقرر تھی کہ وہ لشکر اسلامی کے پیچھے پیچھے رہتا تھا۔( تا کہ گری پڑی چیز وغیرہ کی حفاظت ہو سکے ) وہ جب پیچھے سے آیا اور صبح کے قریب میری جگہ پر پہنچا تو اس نے مجھے وہاں اکیلے سوئے ہوئے دیکھا۔اور چونکہ وہ پردہ کے احکام کے نازل ہونے سے قبل مجھے دیکھ چکا تھا اس نے مجھے فوراً پہچان لیا۔جس پر اس نے گھبرا کر اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ کہا یا اس کی اس آواز سے میں جاگ اٹھی اور میں نے اسے دیکھتے ہی جھٹ اپنا منہ اپنی اوڑھنی سے ڈھانک لیا اور خدا کی قسم اس نے لے : یعنی ہم خدا ہی کے ہیں اور خدا ہی کی طرف لوٹیں گے۔یہ کلمہ مسلمان مصیبت کے موقع پر کہا کرتے ہیں۔