سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 633
۶۳۳ سے لوگوں کی توجہ اس نا گوار واقعہ کی طرف سے ہٹ کر ایک لمبے وقفہ تک دوسری طرف لگی رہی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مسلمانوں کو منافقین کی فتنہ انگیزی سے بچالیا۔دراصل منافقین مدینہ کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی تھی کہ جس طرح بھی ہو سکے مسلمانوں میں خانہ جنگی اور باہمی انشقاق کی صورت پیدا کر دیں۔نیز اگر ممکن ہو تو ان کی نظر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو کم کر دیں۔مگر اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مقناطیسی شخصیت نے مسلمانوں میں ایسا رشتہ اتحاد پیدا کر دیا تھا کہ کوئی سازش اس میں رخنہ انداز نہیں ہو سکتی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے متعلق تو مسلمانوں کے دلوں میں عزت و احترام اخلاص و ایمان اور محبت و عشق کے وہ جذبات راسخ ہو چکے تھے کہ انہیں متزلزل کرنا کسی بشر کی طاقت میں نہیں تھا۔چنانچہ اسی موقع پر دیکھ لو کہ عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین نے دوعامی مسلمانوں کے ایک وقتی جھگڑے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کس طرح صحابہ میں اختلاف و انشقاق کا بیج بونے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و رعب کو صدمہ پہنچانے کی کوشش کی۔مگر اسے کیسے نا کامی کا منہ دیکھنا پڑا اور خدا نے اسے خود اس کے بیٹے کے ہاتھوں سے وہ ذلت کا پیالہ پلایا جو اسے غالباً مرتے دم تک نہ بھولا ہوگا۔واقعہ افک مگر نہ معلوم منافقین مدینہ کی مٹی میں کس فتنہ کا خمیر تھا کہ کوئی واقعہ ان کی آنکھوں کو نہ کھولتا تھا بلکہ ہر نا کامی ان کی شرارت اور فتنہ پردازی کو اور بھی زیادہ کر دیتی تھی۔چنانچہ اسی سفر کی واپسی میں ان کی طرف سے ایک اور خطرناک فتنہ کھڑا کیا گیا جو اپنی نوعیت اور مفسدانہ اثر کے لحاظ سے اس فتنہ سے بھی بہت زیادہ خطر ناک تھا جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔یہ واقعہ حضرت عائشہ صدیقہ پر تہمت لگائے جانے کا واقعہ ہے جو اسی غزوہ کے سفر واپسی میں پیش آیا۔یہ تہمت اسی نوعیت کی تھی جیسی کہ حضرت عیسی" کی والدہ حضرت مریم اور رام چندر جی کی بیوی سیتا پر بد باطن لوگوں نے لگائی اور بہتر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ کے اپنے الفاظ میں اسے بیان کیا جاوے کیونکہ وہ ایک بہت مفصل اور دلچسپ بیان ہے جس سے اصل واقعہ کے متعلق یقینی علم حاصل ہونے کے علاوہ اس زمانہ کے تمدن اور طریق واطوار پر بھی بہت روشنی پڑتی ہے۔چنانچہ بخاری میں حضرت عائشہ کی طرف سے جو روایت بیان ہوئی ہے اس کے ضروری ضروری اقتباسات درج ذیل کئے جاتے ہیں۔حضرت عائشہ بخاری کتاب المغازی باب غزوہ بنی مصطلق وابن ہشام وطبری وابن سعد