سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 635
۶۳۵ میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی اور نہ میں نے اس کلمہ کے سوا اس کے منہ سے کوئی اور الفاظ سنے۔اس کے بعد وہ اپنے اونٹ کو آگے لایا اور میرے قریب اسے بٹھا دیا اور اس نے اونٹ کے دونوں گھٹنوں پر اپنا پاؤں رکھ دیا ( تا کہ وہ اچانک نہ اٹھ سکے ) چنانچہ میں اونٹ کے اوپر سوار ہوگئی اور صفوان اس کے آگے آگے اس کی مہار تھامے ہوئے چلنے لگ گیا حتی کہ ہم چلتے چلتے اس جگہ آپہنچے جہاں لشکر اسلامی ڈیرہ ڈالے ہوئے تھا۔بس یہ وہ قصہ ہے جس پر ہلاک ہو گئے وہ لوگ جنہوں نے ہلاک ہونا تھا۔اور اس بہتان کا بانی مبانی عبد اللہ بن ابی بن سلول (رئیس المنافقین ) تھا۔۔اس کے بعد ہم لوگ مدینہ میں پہنچ گئے اور اتفاق ایسا ہوا کہ میں وہاں جاتے ہی بیمار ہوگئی اور برابر ایک ماہ تک بیمار رہی اور اس عرصہ میں لوگوں میں بہتان لگانے والوں کی باتوں کے متعلق بہت چرچا رہا اور ہر طرح کی چہ میگوئی ہوتی رہی مگر اس وقت تک مجھے اس تہمت کے متعلق قطعاً کوئی خبر نہیں تھی۔البتہ یہ بات ضرور تھی کہ مجھے اس بیماری کے ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے وہ شفقت و مہربانی نظر نہیں آتی تھی جو آپ عموماً مجھ پر فرمایا کرتے تھے اور اس کا مجھے سخت قلق تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آتے تھے تو بس سلام کہہ کر صرف اتنی بات فرماتے تھے کہ اب کیا حال ہے؟ اور پھر لوٹ جاتے تھے اور آپ کے اس طریق سے مجھے دل ہی دل میں سخت تکلیف ہوتی تھی۔میں اسی بے خبری کی حالت میں پڑی رہی حتی کہ میری بیماری نے مجھے سخت نڈھال اور کمزور کر دیا۔انہی ایام میں مجھے ایک دن ایک عورت ام مسطح سے جو دور سے ہماری رشتہ دار بھی تھی اتفاقی طور پر بہتان لگانے والوں کا قصہ معلوم ہوا۔اور مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان الزام لگانے والوں میں ام مسطح کا لڑکا مسطح بھی شامل تھا۔جب میں نے کالڑ یہ باتیں سنیں تو مجھے تو گویا اپنی اصل بیماری بھول کر ایک نئی بیماری لگ گئی۔اس کے بعد جب آنحضرت اللہ علیہ وسلم نے حسب عادت تشریف لا کر یہ دریافت فرمایا کہ اب کیا حال ہے؟ تو میں نے آپ سے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! مجھے آپ اجازت دیں تو میں چند دن کے لئے اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاؤں۔آپ نے اجازت دے دی اور میں اپنے والدین کے گھر چلی گئی۔اس سے دراصل میرا منشا یہ تھا کہ والدین کے گھر جا کر میں اس خبر کے متعلق تحقیق کروں گی کہ کیا واقعی میرے متعلق اس قسم کی باتیں کی جارہی ہیں۔چنانچہ میں نے وہاں جا کر اپنی والدہ سے دریافت کیا۔میری ماں نے کہا بیٹی ! تو پریشان نہ ہو۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب ایک شخص کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوتی ہیں اور وہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ زیادہ محبت کرتا ہے تو ایسی عورت کے متعلق دوسری عورتیں خواہ نخواہ باتیں بنانے لگ جاتی ہیں۔