سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 632 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 632

۶۳۲ میں سفر نہیں فرمایا کرتے آج کیا معاملہ ہے؟ آپ نے فرمایا۔اسید! کیا تم نے نہیں سنا کہ عبداللہ بن اُبی نے کیا الفاظ کہے ہیں؟ وہ کہتا ہے کہ ہم مدینہ چل لیں۔وہاں پہنچ کر عزت والا شخص ذلیل شخص کو باہر نکال دے گا۔‘ اسید نے بے ساختہ عرض کیا۔ہاں یا رسول اللہ آپ چاہیں تو بے شک عبد اللہ کو مدینہ سے باہر نکال سکتے ہیں کیونکہ واللہ عزت والے آپ ہیں اور وہی ذلیل ہے۔پھر اسید بن حضیر نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ جانتے ہیں کہ آپ کے تشریف لانے سے قبل عبد اللہ بن ابی اپنی قوم میں بہت معز تھا اور اس کی قوم اس کو اپنا بادشاہ بنانے کی تجویز میں تھی جو آپ کے تشریف لانے سے خاک میں مل گئی۔پس اسی وجہ سے اس کے دل میں آپ کے متعلق حسد بیٹھ گیا ہوا ہے۔اس لئے اس کی بکواس کی کچھ پروا نہ کریں اور اس سے درگز رفرما دیں یا تھوڑی دیر میں عبداللہ بن اُبی کا لڑکا جس کا نام حباب تھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بدل کر عبداللہ کر دیا تھا اور وہ ایک بہت مخلص صحابی تھا گھبرایا ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا۔یا رسول اللہ میں نے سنا ہے کہ آپ میرے باپ کی گستاخی اور فتنہ انگیزی کی وجہ سے اس کے قتل کا حکم دینا چاہتے ہیں۔اگر آپ کا یہی فیصلہ ہے تو آپ مجھے حکم فرمائیں میں ابھی اپنے باپ کا سرکاٹ کر آپ کے قدموں میں لا ڈالتا ہوں مگر آپ کسی اور کو ایسا ارشاد نہ فرمائیں کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ کوئی جاہلیت کی رگ میرے بدن میں جوش مارے اور میں اپنے باپ کے قاتل کو کسی وقت کوئی نقصان پہنچا بیٹھوں اور خدا کی رضا چاہتا ہوا بھی جہنم میں جاگروں۔آپ نے اسے تسلی دی اور فرمایا کہ ہمارا ہر گز یہ ارادہ نہیں ہے بلکہ ہم بہر حال تمہارے والد کے ساتھ نرمی اور احسان کا معاملہ کریں گے۔مگر عبد اللہ بن عبداللہ بن ابی کو اپنے باپ کے خلاف اتنا جوش تھا کہ جب لشکر اسلامی مدینہ کی طرف لوٹا تو عبد اللہ اپنے باپ کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ خدا کی قسم ! میں تمہیں واپس نہیں جانے دوں گا جب تک تم اپنے منہ سے یہ اقرار نہ کرو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معزز ہیں اور تم ذلیل ہوا اور عبداللہ نے اس اصرار سے اپنے باپ پر زور ڈالا کہ آخر اس نے مجبور ہوکر یہ الفاظ کہہ دیئے جس پر عبداللہ نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔کے جب واپسی کا کوچ شروع ہوا تو اس دن کا بقیہ حصہ اور ساری رات اور اگلے دن کا ابتدائی حصہ لشکر اسلامی برابر لگا تار چلتا رہا اور جب بالآخر ڈیرہ ڈالا گیا تو لوگ اس قدر تھک کر چور ہو چکے تھے کہ مقام کرتے ہی ان میں سے اکثر گہری نیند سو گئے۔" اور اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیدار مغزی ابن ہشام : ابن ہشام وطبری ترمذی و ابن سعد ابن ہشام