سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 631 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 631

۶۳۱ مسلمانوں کو پناہ دے کر ان کو سر پر چڑھا لیا ہے۔اب بھی تمہیں چاہئے کہ ان کی اعانت سے دست بردار ہو جاؤ پھر یہ خود بخود چھوڑ چھاڑ کر چلے جائیں گے اور بالآخر اس بدبخت نے یہاں تک کہہ دیا کہ لَبِنْ رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ۔یعنی ”دیکھو تو اب مدینہ میں جاکر عزت والا شخص یا گروہ ذلیل شخص یا گروہ کو اپنے شہر سے باہر نکال دیتا ہے یا نہیں ؟۔اس وقت ایک مخلص مسلمان بچہ زید بن ارقم بھی وہاں بیٹھا تھا اس نے عبداللہ کے منہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ الفاظ سنے تو بے تاب ہو گیا۔اور فوراً اپنے چا کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت عمرؓ بھی بیٹھے تھے۔وہ یہ الفاظ سن کر غصہ وغیرت سے بھر گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق فتنہ پرداز کی گردن اڑا دوں۔آپ نے فرمایا ”عمر ! جانے دو۔کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ لوگوں میں یہ چرچا ہو کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرواتا پھرتا ہے۔پھر آپ نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلوا بھیجا اور ان سے دریافت فرمایا کہ یہ کیا معاملہ ہے۔وہ سب قسمیں کھا گئے کہ ہم نے کوئی ایسی بات نہیں کی ہے بعض انصار نے بھی بطریق سفارش عرض کیا کہ زید بن ارقم کو غلطی لگی ہوگی تے آپ نے اس وقت عبداللہ بن اُبی اور اس کے ساتھیوں کے بیان کو قبول فرمالیا اور زید کی بات رد کر دی جس سے زید کو سخت صدمہ ہوا مگر بعد میں قرآنی وحی نے زید کی تصدیق فرمائی اور منافقین کو جھوٹا قرار دیا ہے ادھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی وغیرہ کو بلا کر اس بات کی تصدیق شروع فرما دی اور اُدھر آپ نے حضرت عمر سے ارشاد فرمایا کہ اسی وقت لوگوں کو کوچ کا حکم دے دو۔یہ وقت دو پہر کا تھا جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عموماً کوچ نہیں فرمایا کرتے تھے کیونکہ عرب کے موسم کے لحاظ سے یہ وقت سخت گرمی کا وقت ہوتا ہے اور اس میں سفر کرنا نہایت تکلیف دہ ہوتا ہے مگر آپ نے اس وقت کے حالات کے مطابق یہی مناسب خیال فرمایا کہ ابھی کوچ ہو جاوے۔چنانچہ آپ کے حکم کے ماتحت فور اسا را اسلامی لشکر واپسی کے لئے تیار ہو گیا۔غالباً اسی موقع پر اسید بن حضیر انصاری جو قبیلہ اوس کے نہایت نامور رئیس تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔یا رسول اللہ ! آپ تو عموماً ایسے وقت ا بخاری و ترمذی تفسیر سورۃ منافقون وا بن ہشام اوبن سعد حالات مریسیع بخاری و ترمذی سورة منافقون و بخاری و ترندی ابن ہشام ه: ابن سعد