سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 617 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 617

۶۱۷ برتی جاتی ہے کہ عام طور پر جو ان لڑکیاں بغیر کسی محرم مرد یا معمر رفیق عورت کے بالکل آزادانہ طور پر ادھر ادھر نہیں آتی جاتیں اور نہ غیر محرم مردوں کے ساتھ خلوت میں آزادانہ ملاقات کرتی ہیں اور جو لڑکیاں اس معاملہ میں زیادہ آزادی دکھاتی ہیں انہیں عموماً شریف سوسائٹی میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عورتوں کی بالکل غیر مقید اور بے حجابانہ آزادی کو یورپ جیسی بے حجاب سرزمین میں بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا اور یہی وہ اصول ہے جسے اسلام نے زیادہ جامعیت اور زیادہ خوبی کے ساتھ اختیار کر کے اور اس کے ساتھ زینت کے چھپانے کے اصول کو شامل کر کے پردے کے احکام جاری کئے ہیں اور اس معاملہ میں افراط و تفریط کے رستوں سے بچ کر ایک میانہ روی کا طریق قائم کر دیا ہے۔دراصل اگر غور کیا جاوے تو پر دہ پر سارا اعتراض اس عملی طریق کی وجہ سے ہے جو آج کل بعض اسلامی ممالک اور خصوصاً ہندوستان کے مسلمانوں میں رائج ہے اور جو زیادہ تر اسلامی سلطنتوں کی کمزوری کے زمانہ میں سیاسی حالات کے ماتحت مجبوراً مسلمانوں کو اختیار کرنا پڑا تھا۔مگر بعد میں ایک رسم کے طور پر ایک مستقل اور زیادہ سخت صورت اختیار کر گیا۔ورنہ اس معاملہ میں اصل اسلامی حکم جو قرآن وحدیث سے پتہ لگتا ہے اور ابتدائی مسلمانوں کا اصل تعامل جو تاریخ و حدیث سے ثابت ہوتا ہے وہ ہرگز ایسا نہیں کہ اس پر کوئی معقول اعتراض ہو سکے بلکہ ہر شخص جو ٹھنڈے طور پر غور کرنے کا عادی ہے اس کی خوبی کا قائل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔اسلامی پردہ کا لب لباب صرف یہ ہے کہ اول غیر محرم مرد وعورت ایک دوسرے کے سامنے اپنی نظروں کو نیچار کھیں اور عورت اپنے چہرہ اور بدن اور لباس کی زینت کو کسی غیر محرم مرد پر نظر یا لمس وغیرہ کے ذریعہ ظاہر نہ کرے یا دوم یہ کہ غیر محرم مرد و عورت کسی ایسی جگہ میں جو دوسروں کی نظر سے اوجھل ہوخلوت میں اکیلے ملاقات نہ کریں۔ان دو حد بندیوں کوملحوظ رکھتے ہوئے جن میں سراسر سوسائٹی کی بہبودی اور اخلاق کی حفاظت مد نظر ہے ایک مسلمان عورت پردہ کے معاملہ میں ہر طرح آزاد ہے۔وہ درس گاہوں میں تعلیم حاصل کر سکتی اور تعلیم دے سکتی ہے۔وہ ورزش اور سیر و تفریح کے لئے گھر سے باہر نکل سکتی ہے۔وہ خرید وفروخت کر سکتی ہے۔وہ پبلک جلسوں وغیرہ میں شریک ہو سکتی ہے۔وہ غیر محرم مردوں سے ملاقات کر سکتی ہے اور ان کی بات سن سکتی اور ان کو اپنی بات سنا سکتی ہے۔وہ محنت ومزدوری کر سکتی ہے۔وہ دفاتر اور محکموں اور شفا خانوں اور کارخانوں میں کام کر سکتی ہے۔وہ قومی اور ملکی کاموں میں حصہ لے قرآن شریف سورة نور : ۳۲ و بخاری تفسیر سورة ممتحنه : بخاری کتاب النکاح باب لَا يَخُلُونَ رَجُلٌ وَبَابُ مَا يَجُوزُ اَنْ يَخْلُوَ