سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 618 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 618

۶۱۸ لے سکتی ہے۔وہ جنگوں میں مناسب خدمت سرانجام دینے کے لئے شریک ہوسکتی ہے۔غرض اسلامی پردہ عورت کی تعلیم و تربیت، اس کی نشو و نما ، اس کے ضروری مشاغل ،اس کی جائز تفریحات میں ہرگز کوئی روک نہیں ہے۔اور تاریخ سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے زمانہ میں مسلمان عورتیں تمام ان جائز کاموں میں حصہ لیتی تھیں جو اس زمانہ میں پیش آتے تھے۔وہ تعلیم حاصل کرتی اور تعلیم دیتی تھیں۔وہ نمازوں میں مسلمان مردوں کے ساتھ شامل ہوتی تھیں۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر ریریں اور خطبات سنتی تھیں۔وہ قومی کاموں میں مشورہ دیتی تھیں۔وہ حج میں مردوں کے پہلو بہ پہلو مراسم حج ادا کرتی تھیں۔وہ سفروں میں مردوں کے ساتھ جاتی تھیں۔وہ غیر محرم مردوں کے ساتھ ضرورت پیش آنے پر ملاقات کرتی اور ان کی بات سنتیں اور اپنی بات سناتی تھیں۔وہ سواری کرتی تھیں۔وہ تفریحی تماشے دیکھتی تھیں۔وہ جنگوں میں شریک ہوتی اور زخموں کی تیمارداری اور نرسنگ کی خدمات سرانجام دیتی تھیں اور ضرورت پڑتی تو میدان جنگ میں تلوار بھی چلا لیتی تھیں۔پس پردہ پر جتنے بھی اعتراض ہوتے ہیں وہ در حقیقت اصل اسلامی پردہ پر نہیں ہیں۔بلکہ موجودہ زمانہ کے بگڑے ہوئے پردہ پر ہیں جس نے عورت کو گھر کی چاردیواری میں قریباً ایک حیوان کی طرح قید کر رکھا ہے۔مگر اس نقص کے دور کرنے کے یہ معنے نہیں ہیں کہ ایک انتہا سے ہٹ کر دوسری انتہا کو اختیار کر لیا جاوے کیونکہ یہ دونوں ضلالت و ہلاکت کی راہیں ہیں اور سلامت روی کا وہی رستہ ہے جسے اسلام نے پیش کیا ہے اور جو انسانی فطرت کی سچی آواز ہے۔علاوہ ازیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ عورت کے کام کی اصل جگہ گھر ہے جہاں اس کے ہاتھوں میں قوم کے نونہال پلتے ہیں جن پر آئندہ چل کر قومی اور ملکی کاموں کا بوجھ پڑنا ہوتا ہے اور یہ ایک ایسا نازک اور وسیع اور عظیم الشان کام ہے کہ اگر عورت صرف اسی کام کو خیر و خوبی کے ساتھ سرانجام دے اور اس کے لئے اپنے آپ کو اہل بنائے تو اس کی توجہ کی مصروفیت کے لئے یہی کافی ہے اور اسی سے وہ ملک وقوم کی بہترین محسنہ بن سکتی ہے اور ظاہر ہے کہ اس کام کے لئے اسلامی پردہ مد ہے نہ کہ خلاف۔حضرت زینب بنت جحش کی عمر شادی کے وقت حضرت زینب کی شادی کے بقیہ حالات پینتیس سال کی تھی۔اور عرب کے حالات کے لے ان سب باتوں کے حوالے اس کتاب میں متفرق طور پر گزر چکے ہیں اور بعض اپنے موقع پر آگے آئیں گے : اصابه