سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 616 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 616

۶۱۶ ابتدائی آیات نازل ہوئیں جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات پر پردے کی پابندی عائد کی گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں غیر محرم لوگوں کی آزادانہ آمد و رفت رک گئی ہے اس کے بعد آہستہ آہستہ پردے کے متعلق مزید احکامات نازل ہوتے رہے حتی کہ بالآخر اس نے وہ صورت اختیار کر لی جو اس وقت قرآن شریف و حدیث میں موجود ہے۔یے اور جس کی رو سے مسلمان عورت کی جائز اور ضروری آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے عورت کو غیر محرم مردوں کے سامنے اپنے بدن اور لباس کی زینت کے برملا اظہار سے منع فرمایا گیا ہے۔نیز غیر محرم مرد و عورت کا ایک دوسرے کے ساتھ خلوت میں اکیلے ملاقات کرنا نا جائز قرار دے دیا گیا ہے اور اگر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے تو یہ وہ قیود ہیں جو ایک طرف تو عورت کی صحت اور اس کی علمی ترقی اور قومی اور ملکی کاموں میں اس کے حصہ لینے اور دوسرے معاملات میں اس کی جائز آزادی میں کوئی روک نہیں بنتیں اور دوسری طرف غیر محرم مرد و عورت کے بالکل آزادانہ اور بے حجابانہ میل جول سے جو خلاف اخلاق اور مضرت رساں نتائج پیدا ہو سکتے ہیں اور جو بے پر دملکوں میں عموماً پیدا ہوتے رہتے ہیں ان کا ان قیود سے سد باب ہو جاتا ہے۔اس جگہ یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ موجودہ زمانہ میں جو صورت پردے کی مسلمانوں میں رائج ہے وہ بالعموم صحیح اسلامی احکام کے مطابق نہیں ہے۔کیونکہ اگر کہیں نا واجب سختی سے کام لے کر بیچاری عورت کو اس کے گھر کی چار دیواری میں قریب قریباً ایک قیدی کی طرح بند رکھا جاتا ہے جس سے اس کی صحت اور تعلیم و تربیت اور اس کا تمدن وغیرہ تباہ ہو رہے ہیں تو کہیں مغرب کی کورانہ تقلید میں اسے ناواجب آزادی دے دی گئی ہے جس سے سوسائٹی کے اخلاق و عادات پر ضرر رساں اثر پڑ رہا ہے۔اور یہ ہر دور ستے افراط و تفریط کے رستے ہیں جن کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔اسلامی تعلیم کی رو سے عورت اپنی زینت کے برملا اظہار سے رکتے ہوئے تمام قسم کی جائز تفریحات اور جائز کاموں میں حصہ لے سکتی ہے مگر اسے بالکل کھلے منہ پھر نے اور غیر محرم مردوں کے ساتھ خلوت میں اکیلے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ یہ طریق اپنے اندر فتنے کے احتمالات رکھتا ہے جس کا سد باب ضروری ہے۔یورپ کے بعض ممالک میں بھی جہاں پردے کی حدود کو بالکل توڑ دیا گیا ہے اعلیٰ طبقہ کے شرفاء کے گھروں میں اس قدر احتیاط ضرور بخاری کتاب التفسیر باب سورۃ احزاب : قرآن شریف سورة نور : ۳۲ وسورة احزاب ۳۴ و بخاری تفسیر سورة نور وتفسير سورة احزاب و تفسير سورة ممتحنه و كتاب النكاح