سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 564
۵۶۴ خاموش ہو گئیں لے قریش نے دوسرے صحابہ کی نعشوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا تھا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی عبداللہ بن جحش کی نعش کو بھی بُری طرح بگاڑا گیا تھا۔جوں جوں نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک نغش سے ہٹ کر دوسری نعش کی طرف جاتے تھے آپ کے چہرہ پر غم والم کے آثار زیادہ ہوتے جاتے تھے۔غالباً اسی موقع پر آپ نے فرمایا کہ کوئی جا کر دیکھے کہ سعد بن الربیع رئیس انصار کا کیا حال ہے آیا وہ زندہ ہیں یا شہید ہو گئے ؟ کیونکہ میں نے لڑائی کے وقت دیکھا تھا کہ وہ دشمن کے نیزوں میں بری طرح گھرے ہوئے تھے۔آپ کے فرمانے پر ایک انصاری صحابی ابی بن کعب گئے اور میدان میں ادھر ادھر سعد کو تلاش کیا مگر کچھ پتہ نہ چلا۔آخر انہوں نے اونچی اونچی آواز میں دینی شروع کیں اور سعد کا نام لے لے کر پکارا مگر پھر بھی کوئی سراغ نہ ملا۔مایوس ہوکر وہ واپس جانے کو تھے کہ انہیں خیال آیا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر تو پکاروں شاید اس طرح پتہ چل جاوے۔چنانچہ انہوں نے بلند آواز سے پکار کر کہا۔سعد بن ربیع کہاں ہیں مجھے رسول اللہ نے ان کی طرف بھیجا ہے۔اس آواز نے سعد کے نیم مردہ جسم میں ایک بجلی کی لہر دوڑا دی اور انہوں نے چونک کر مگر نہایت دھیمی آواز میں جواب دیا۔”کون ہے میں یہاں ہوں۔“ ابی بن کعب نے غور سے دیکھا تو تھوڑے فاصلہ پر مقتولین کے ایک ڈھیر میں سعد کو پایا جو اس وقت نزع کی حالت میں جان تو ڑ رہے تھے۔ابی بن کعب نے ان سے کہا کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے بھیجا ہے کہ میں تمہاری حالت سے آپ کو اطلاع دوں۔سعد نے جواب دیا کہ رسول اللہ سے میرا سلام عرض کرنا اور کہنا کہ خدا کے رسولوں کو جوان کے متبعین کی قربانی اور اخلاص کی وجہ سے ثواب ملا کرتا ہے خدا آپ کو وہ ثواب سارے نبیوں سے بڑھ چڑھ کر عطا فرمائے اور آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرے اور میرے بھائی مسلمانوں کو بھی میر اسلام پہنچانا اور میری قوم سے کہنا کہ اگر تم میں زندگی کا دم ہوتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچ گئی تو خدا کے سامنے تمہارا کوئی عذر نہیں ہوگا۔یہ کہہ کر سعد نے جان دے دی ہے اُحد کے شہداء میں ایک صاحب مصعب بن عمیر تھے۔یہ وہ سب سے پہلے مہاجر تھے جو مدینہ میں اسلام کے مبلغ بن کر آئے تھے۔زمانہ جاہلیت میں مصعب مکہ کے نوجوانوں میں سب سے زیادہ خوش پوش اور بانکے سمجھے جاتے تھے اور بڑے ناز و نعمت میں رہتے تھے۔اسلام لانے کے بعد ان کی حالت بالکل بدل گئی۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ان کے بدن پر ایک کپڑا دیکھا۔ابن ہشام ہے : موطا کتاب الجہا دوز رقانی وابن ہشام : اصابه حالات مصعب