سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 565
جس پر کئی پیوند لگے ہوئے تھے۔آپ کو ان کا وہ پہلا زمانہ یاد آ گیا تو آپ چشم پر آب ہو گئے۔اُحد میں جب مصعب شہید ہوئے تو ان کے پاس اتنا کپڑا بھی نہیں تھا کہ جس سے ان کے بدن کو چھپایا جاسکتا۔پاؤں ڈھانکتے تھے تو سرنگا ہوجاتا تھا اور سرڈھانکتے تھے تو پاؤں کھل جاتے تھے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے سر کو کپڑے سے ڈھانک کر پاؤں کو گھاس سے چھپا دیا گیا۔نعشوں کی دیکھ بھال کے بعد تکفین و تدفین کا کام شروع ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کپڑے شہداء کے بدن پر ہیں وہ اسی طرح رہنے دئے جائیں اور شہداء کو غسل بھی نہ دیا جاوے۔البتہ کسی کے پاس کفن کے لئے زائد کپڑا ہو تو وہ پہنے ہوئے کپڑوں کے اوپر لپیٹ دیا جاوے۔نماز جنازہ بھی اس وقت ادا نہیں کی گئی۔چنانچہ بغیر نسل دئے اور بغیر نماز جنازہ ادا کئے شہداء کو دفتا دیا گیا۔اور عموماً ایک ایک کپڑے میں دو دو صحابیوں کو اکٹھا کفنا کر ایک ہی قبر میں اکٹھا دفن کر دیا گیا۔جس صحابی کو قرآن شریف زیادہ آتا تھا اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے ماتحت لحد میں اتارتے ہوئے مقدم رکھا جاتا تھا۔گو اس وقت نماز جنازہ ادا نہیں کی گئی لیکن بعد میں زمانہ وفات کے قریب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر شہداء احد پر جنازہ کی نماز ادا کی اور بڑے درد دل سے ان کے لئے دعا فرمائی آپ اُحد کے شہداء کو خاص محبت اور احترام سے دیکھتے تھے۔ایک دفعہ آپ اُحد کے شہداء کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا " یہ وہ لوگ ہیں جن کے ایمان کا میں شاہد ہوں۔حضرت ابوبکر نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم ان کے بھائی نہیں ہیں؟ کیا ہم نے انہیں کی طرح اسلام قبول نہیں کیا ؟ کیا ہم نے انہی کی طرح خدا کے رستے میں جہاد نہیں کیا ؟ آپ نے فرمایا ”ہاں ! لیکن مجھے کیا معلوم ہے کہ میرے بعد تم کیا کیا کام کرو گے۔اس پر حضرت ابو بکر رو پڑے اور بہت روئے اور عرض کیا۔یا رسول اللہ ! کیا ہم آپ کے بعد زندہ رہ سکیں گے۔صحابہ بھی اُحد کے شہداء کی بڑی عزت کرتے تھے اور اُحد کی یاد کو ایک مقدس چیز کے طور پر اپنے دلوں میں تازہ رکھتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف کے سامنے افطاری کا کھانا آیا جو غالباً کسی قدر پر تکلف تھا۔اس پر انہیں اُحد کا زمانہ یاد آ گیا جب مسلمانوں کے پاس اپنے شہداء کو کفنانے کے لئے کپڑا تک نہیں تھا اور وہ ان کے بدنوں کو چھپانے کے لئے گھاس کاٹ کاٹ کر ان پر لپیٹتے تھے اور اس یاد ل ترندی ابواب الزہد بخاری حالات احد بخاری حالات احد ۵ : مؤطا امام مالک کتاب الجہاد بخاری حالات غزوہ احد وزرقانی