سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 563
۵۶۳ اور گھوڑوں کو خالی چلا رہے ہوں تو سمجھنا کہ وہ مکہ کی طرف واپس جارہے ہیں مدینہ پر حملہ آور ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے اور اگر وہ گھوڑوں پر سوار ہوں تو سمجھنا ان کی نیت بخیر نہیں۔اور آپ نے ان کو تاکید فرمائی کہ اگر قریش کا لشکر مدینہ کا رخ کرے تو فوراً آپ کو اطلاع دی جاوے اور آپ نے بڑے جوش کی حالت میں فرمایا کہ اگر قریش نے اس وقت مدینہ پر حملہ کیا تو خدا کی قسم ہم ان کا مقابلہ کر کے انہیں اس حملہ کا مزا چکھا دیں گے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے آدمی آپ کے ارشاد کے ماتحت گئے اور بہت جلد یہ خبر لے کر واپس آگئے کہ قریش کا لشکر مکہ کی طرف جا رہا ہے۔اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی میدان میں اُتر آئے ہوئے تھے اور شہداء کی نعشوں کی دیکھ بھال شروع تھی۔جو نظارہ اس وقت مسلمانوں کے سامنے تھا وہ خون کے آنسور لانے والا تھا۔ستر مسلمان خاک وخون میں لتھڑے ہوئے میدان میں پڑے تھے اور عرب کی وحشیانہ رسم مثلہ کا مہیب نظارہ پیش کر رہے تھے۔ان مقتولین میں صرف چھ مہاجر تھے اور باقی سب انصار سے تعلق رکھتے تھے۔قریش کے مقتولوں کی تعداد تئیس تھی۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا اور رضاعی بھائی حمزہ بن عبدالمطلب کی نعش کے پاس پہنچے تو بے خود سے ہو کر رہ گئے کیونکہ ظالم ہند زوجہ ابوسفیان نے اُن کی نعش کو بری طرح بگاڑا ہوا تھا۔تھوڑی دیر تک تو آپ خاموشی سے کھڑے رہے اور آپ کے چہرہ سے غم وغصہ کے آثار نمایاں تھے۔ایک لمحہ کے لئے آپ کی طبیعت اس طرف بھی مائل ہوئی کہ مکہ کے ان وحشی درندوں کے ساتھ جب تک انہی کا سا سلوک نہ کیا جائے گا وہ غالباً ہوش میں نہیں آئیں گے مگر آپ اس خیال سے رک گئے اور صبر کیا بلکہ اس کے بعد آپ نے مثلہ کی رسم کو اسلام میں ہمیشہ کے لئے ممنوع قرار دیدیا اور فرمایا دشمن خواہ کچھ کرے تم اس قسم کے وحشیانہ طریق سے بہر حال بازر ہو اور نیکی اور احسان کا طریق اختیار کرو آپ کی پھوپھی صفیہ بنت عبدالمطلب اپنے بھائی حمزہ سے بہت محبت رکھتی تھیں۔وہ بھی مسلمانوں کی ہزیمت کی خبر سُن کر مدینہ سے نکل آئیں تھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے صاحبزادے زبیر بن العوام سے فرمایا کہ اپنی والدہ کو ماموں کی نعش نہ دکھانا مگر بہن کی محبت کب چھین لینے دیتی تھی۔انھوں نے اصرار کے ساتھ کہا کہ مجھے حمزہ کی نعش دکھا دو۔میں وعدہ کرتی ہوں کہ صبر کروں گی اور کوئی جزع فزع کا کلمہ منہ سے نہیں نکالوں گی ؛ چنانچہ وہ گئیں اور بھائی کی نعش دیکھ کر اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھتی ہوئی طبری وابن ہشام : ابن سعد بخاری حالات احد : زرقانی ۵ : ابن ہشام وطبری