سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 562
۵۶۲ کا خیال کر کے خاموش رہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو اپنے نام پر تو خاموش رہنے کا حکم دیتے تھے اب خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں بت کا نام آنے پر بے تاب ہو گئے اور فرمایا تم جواب کیوں نہیں دیتے ؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا جواب دیں۔آپ نے فرمایا کہو اللهُ أَعْلَى وَاجَلٌ یعنی بلندی اور بزرگی صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ابوسفیان نے کہا لَنَا الْعُزَّى وَلَا عُزّى لَكُمُ۔” ہمارے ساتھ عزی ہے۔اور تمہارے ساتھ عربی نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہو اللهُ مَوْلَنَا وَلَا مَوْلى لَكُمُ۔عری کیا چیز ہے۔”ہمارے ساتھ اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمہارے ساتھ کوئی مددگار نہیں۔اس کے بعد ابوسفیان نے کہا۔لڑائی ایک ڈول کی طرح ہوتی ہے جو کبھی چڑھتا اور کبھی گرتا ہے۔پس یہ دن بدر کے دن کا بدلہ سمجھو اور تم میدان جنگ میں ایسی لاشیں پاؤ گے جن کے ساتھ مثلہ کیا گیا ہے۔میں نے اس کا حکم نہیں دیا مگر جب مجھے اس کا علم ہوا تو مجھے اپنے آدمیوں کا یہ فعل کچھ برا بھی نہیں لگا۔اور ہمارے اور تمہارے درمیان آئندہ سال انہی ایام میں بدر کے مقام میں پھر جنگ کا وعدہ رہا۔ایک صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے ماتحت جواب دیا کہ + 66 ،، بہت اچھا۔یہ وعدہ رہا۔“ یہ کہہ کر ابوسفیان اپنے ساتھیوں کو لے کر نیچے اتر گیا اور پھر جلد ہی لشکر قریش نے مکہ کی راہ لی۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ باوجود اس کے کہ قریش کو اس موقع پر مسلمانوں کے خلاف غلبہ حاصل ہوا تھا اور ظاہری اسباب کے لحاظ سے وہ اگر چاہتے تو اپنی اس فتح سے فائدہ اٹھا سکتے تھے اور مدینہ پر حملہ آور ہونے کا راستہ تو بہر حال ان کے لئے کھلا تھا مگر خدائی تصرف کچھ ایسا ہوا کہ قریش کے دل باوجود اس فتح کے اندر ہی اندر مرعوب تھے اور انہوں نے اسی غلبہ کو غنیمت جانتے ہوئے جو احد کے میدان میں ان کو حاصل ہوا تھا مکہ کو جلدی جلدی لوٹ جانا ہی مناسب سمجھا مگر بایں ہمہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید احتیاط کے خیال سے فوراستر صحابہ کی ایک جماعت جس میں حضرت ابو بکر اور حضرت زبیر بھی شامل تھے تیار کر کے لشکر قریش کے پیچھے روانہ کر دی ہے یہ بخاری کی روایت ہے۔عام مؤرخین یوں بیان کرتے ہیں کہ آپ نے حضرت علیؓ یا بعض روایات کی رو سے سعد بن وقاص کو قریش کے پیچھے بھجوایا اور ان سے فرمایا کہ اس بات کا پتہ لاؤ کہ لشکر قریش مدینہ پر حملہ کرنے کی نیت تو نہیں رکھتا اور آپ نے ان سے فرمایا اگر قریش اونٹوں پر سوار ہوں : ایک اور بت کا نام ہے ابن ہشام بخاری کتاب المغازی حالات احد بخاری حالات غزوہ احد