سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 537 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 537

۵۳۷ یعنی ام کلثوم بنت عقبہ روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف تین موقعوں کے لئے ایسی باتوں کی اجازت دیتے سنا جو حقیقتا تو جھوٹ نہیں ہوتیں مگر عام لوگ انہیں غلطی سے جھوٹ سمجھ سکتے ہیں۔اول جنگ۔دوم لڑے ہوئے لوگوں کے درمیان 66 صلح کرانے کا موقع اور سوم جبکہ مرد اپنی عورت سے یا عورت اپنے مرد سے کوئی ایسی بات کرے جس میں ایک دوسرے کو راضی اور خوش کرنا مقصود ہو۔یہ حدیث اس بات میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں چھوڑتی کہ جس قسم کے خُدعة کی جنگ میں اجازت دی گئی ہے، اس سے جھوٹ اور دھو کا مراد نہیں ہے بلکہ وہ باتیں مراد ہیں جو بعض اوقات جنگی تدابیر کے طور پر اختیار کرنی ضروری ہوتی ہیں اور جو ہر قوم اور ہر مذہب میں جائز سمجھی گئی ہیں۔کعب بن اشرف کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد ابن ہشام نے یہ روایت نقل کی ہے کہ کعب کے قتل کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اب جس یہودی پر تم قابو پاؤ سے قتل کرد و۔چنانچہ ایک صحابی محیصہ نامی نے ایک یہودی پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا تھا اور یہی روایت ابو داؤد نے نقل کی ہے اور دونوں روایتوں کا منبع ابن اسحاق ہے۔علم روایت کی رو سے یہ روایت کمزور اور نا قابل اعتماد ہے کیونکہ ابن ہشام نے تو اسے بغیر کسی قسم کی سند کے لکھا ہے اور ابو داؤد نے جوسند دی ہے وہ کمزور اور ناقص ہے۔اس سند میں ابن اسحاق یہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ واقعہ زمین بن ثابت کے ایک آزاد کردہ غلام سے سنا تھا اور اس نا معلوم الاسم غلام نے محیصہ کی ایک نامعلوم الاسم لڑکی سے سنا تھا اور اس لڑکی نے اپنے باپ سے سنا تھا۔الخ۔اب ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس قسم کی روایت جس کے دوراوی بالکل نامعلوم الاسم اور مجہول الحال ہوں ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتی اور درایت کے لحاظ سے بھی غور کیا جاوے تو یہ قصہ درست ثابت نہیں ہوتا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عام طریق عمل اس بات کو قطعی طور پر جھٹلاتا ہے کہ آپ نے اس قسم کا عام حکم دیا ہو۔علاوہ ازیں اگر کوئی عام حکم ہوتا تو یقینا اس کے نتیجہ میں کئی قتل واقع ہو جاتے مگر روایت میں صرف ایک قتل کا ذکر ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی عام حکم نہیں تھا اور پھر جب صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ دوسرے دن ہی یہود کے ساتھ نیا معاہدہ ہو گیا تھا کے تو اس صورت میں یہ ہرگز قبول نہیں کیا جاسکتا کہ اس معاہدہ کے ہوتے ہوئے اس قسم کا حکم دیا گیا ہوا اور اگر اس قسم کا کوئی واقعہ ہوتا تو یہودی لوگ اس کے متعلق ضرور واویلا کرتے ، مگر کسی تاریخی روایت سے ظاہر 1 : سنن ابوداؤ د کتاب الخراج : ابودا و دوا بن سعد