سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 536
۵۳۶ یہ ہے کہ جنگ میں اپنے دشمن کو کسی حیلہ اور تدبیر سے غافل کر کے قابو میں لے آنا یا مغلوب کر لینا منع نہیں ہے اور اس قسم کے داؤ پیچ کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔مثلا صیح روایات سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مہم میں نکلتے تھے تو عموماً اپنا منزل مقصود ظاہر نہیں فرماتے تھے اور بعض اوقات ایسا بھی کرتے تھے کہ جانا تو جنوب کی طرف ہوتا تھا، مگر شروع شروع میں شمال کی طرف رخ کر کے روانہ ہو جاتے تھے اور پھر چکر کاٹ کر جنوب کی طرف گھوم جاتے تھے یا جب کبھی کوئی شخص پوچھتا تھا کہ کدھر سے آئے ہو تو بجائے مدینہ کا نام لینے کے قریب یا دور کے پڑاؤ کا نام لے دیتے تھے یا اسی قسم کی کوئی اور جائز جنگی تدبیر اختیار فرماتے تھے یا جیسا کہ قرآن شریف میں اشارہ کیا گیا ہے صحابہ بعض اوقات ایسا کرتے تھے کہ دشمن کو غافل کرنے کے لئے میدان جنگ سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیتے تھے اور جب دشمن غافل ہو جا تا تھا اور اس کی صفوں میں ابتری پیدا ہو جاتی تھی تو پھر اچانک حملہ کر دیتے تھے اور یہ ساری صورتیں اس خُدعة کی ہیں جسے حالات جنگ میں جائز قرار دیا گیا ہے اور اب بھی جائز سمجھا جاتا ہے ، لیکن یہ کہ جھوٹ اور غداری وغیرہ سے کام لیا جاوے اس سے اسلام نہایت سختی کے ساتھ منع کرتا ہے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عموماً فرمایا کرتے تھے کہ اسلام میں خدا کے ساتھ شرک کرنے اور والدین کے حقوق تلف کرنے کے بعد تیسرے نمبر پر جھوٹ بولنے کا گناہ سب سے بڑا ہے۔نیز فرماتے تھے کہ ایمان 166 اور بزدلی ایک جگہ جمع ہو سکتے ہیں مگر ایمان اور جھوٹ کبھی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔" اور دھو کے اور غداری کے متعلق فرماتے تھے کہ جو شخص غداری کرتا ہے وہ قیامت کے دن خدا کے سخت عتاب کے نیچے ہوگا۔الغرض جنگ میں جس قسم کے خُدعة کی اجازت دی گئی ہے وہ حقیقی دھوکا یا جھوٹ نہیں ہے بلکہ اس سے وہ جنگی تدابیر مراد ہیں جو جنگ میں دشمن کو غافل کرنے یا اسے مغلوب کرنے کے لئے اختیار کی جاتی ہیں اور جو بعض صورتوں میں ظاہری طور پر جھوٹ اور دھو کے کے مشابہ تو سمجھی جاسکتی ہیں مگر وہ حقیقتاً جھوٹ نہیں ہوتیں۔چنانچہ مندرجہ ذیل حدیث ہمارے اس خیال کی مصدق ہے۔۔عَنْ أُمِّ كُلْتُوْمَ بِنْتِ عَقَبَةَ بْنِ أَبِى مُعِيطٍ قَالَتْ لَمُ اَسْمَعِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُرَخّصُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ كِذَبْ إِلَّا فِى ثَلَاثِ الْحَرْبِ وَالْإِ صَلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ وَحَدِيثِ الرَّجُلِ امْرَاتَهُ وَحَدِيثِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا مسلم کتاب الایمان موطا امام مالک باب ماجاء فی الصدق والكذب آخر الكتاب : مسلم كتاب الجهاد باب تحريم الغدر مسلم بحوالہ مشکوۃ باب ماينهى من التهاجر