سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 532 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 532

۵۳۲ دوستانہ تعلقات رکھے گا۔اس نے اس معاہدہ کی رو سے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ جو رنگ مدینہ میں جمہوری سلطنت کا قائم کیا گیا ہے اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صدر ہوں گے اور ہر قسم کے تنازعات وغیرہ میں آپ کا فیصلہ سب کے لئے واجب القبول ہوگا۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ اسی معاہدہ کے ماتحت یہودی لوگ اپنے مقدمات وغیرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے تھے اور آپ ان میں احکام جاری فرماتے تھے۔چنانچہ آپ نے ایک زنا کے مقدمہ میں ایک یہودی مرد اور یہودی عورت کو تورات کے حکم کے مطابق رجم کی سزادی تھی۔اب اگر ان حالات کے ہوتے ہوئے کعب نے تمام عہد و پیمان کو بالائے طاق رکھ کر مسلمانوں سے بلکہ حق یہ ہے کہ حکومت وقت سے غداری کی اور مدینہ میں فتنہ وفساد کا بیج بویا اور ملک میں جنگ کی آگ مشتعل کرنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کے خلاف قبائل عرب کو خطرناک طور پر ابھارا اور مسلمانوں کی عورتوں پر اپنے جوش دلانے والے اشعار میں تشبیب کہی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے منصوبے کئے۔اور یہ سب کچھ ایسی حالت میں کیا کہ مسلمان پہلے سے ہی چاروں طرف سے مصائب میں گھرے ہوئے تھے اور عرب کے خونخوار درندے ان کے خون کی پیاس میں مجنون ہورہے تھے اور صحابہ کی ایسی حالت تھی کہ نہ دن آرام میں گزرتا تھا اور نہ رات اور دشمن کے حملہ کے خطرہ میں ان کی نیند تک حرام ہو رہی تھی۔تو کیا ان حالات میں کعب کا جرم بلکہ بہت سے جرموں کا مجموعہ ایسا نہ تھا کہ اس کے خلاف کوئی تعزیری قدم اٹھایا جاتا ؟ اور پھر کیا قتل سے کم کوئی اور سزا تھی جو یہود کی اس فتنہ پردازی کے سلسلہ کو روک سکتی؟ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی غیر متعصب شخص کعب کے قتل کو ایک غیر منصفانہ فعل سمجھ سکتا ہے۔کیا آج کل مہذب کہلانے والے ممالک میں بغاوت اور عہد شکنی اور اشتعال جنگ اور سازش قتل کے جرموں میں مجرم کو قتل کی سزا نہیں دی جاتی ؟ دوسرا سوال قتل کے طریق سے تعلق رکھتا ہے۔سو اس کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ عرب میں اس وقت ! کوئی باقاعدہ سلطنت نہ تھی، بلکہ ہر شخص اور ہر قبیلہ آزاد اورخود مختار تھا۔ایسی صورت میں وہ کون سی عدالت تھی جہاں کعب کے خلاف مقدمہ دائر کر کے باقاعدہ قتل کا حکم حاصل کیا جاتا ؟ کیا یہود کے پاس اس کی شکایت کی جاتی جن کا وہ سردار تھا اور جو خود مسلمانوں کے خلاف غداری کر چکے تھے اور آئے دن فتنے کھڑے کرتے رہتے تھے؟ کیا مکہ کے قریش کے سامنے مقدمہ پیش کیا جاتا جو مسلمانوں کے خون کے پیاسے تھے؟ کیا قبائل سلیم و غطفان سے دادرسی چاہی جاتی جو گزشتہ چند ماہ میں تین چار دفعہ مدینہ پر چھاپہ بخاری کتاب المحاربین