سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 531
۵۳۱ اپنے ساتھیوں کو آواز دی مارو صحابہ نے جو پہلے سے تیار اور ہتھیار بند تھے فوراً تلوار میں چلا دیں اور بالآخر کعب قتل ہو کر گرا۔اور محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھی وہاں سے رخصت ہوکر جلدی جلدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور آپ کو اس قتل کی اطلاع دی۔جب کعب کے قتل کی خبر مشہور ہوئی تو شہر میں ایک سنسنی پھیل گئی اور یہودی لوگ سخت جوش میں آگئے اور دوسرے دن صبح کے وقت یہودیوں کا ایک وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ ہمارا سردار کعب بن اشرف اس اس طرح قتل کر دیا گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی باتیں سن کر فر مایا کہ کیا تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ کعب کس کس جرم کا مرتکب ہوا ہے اور پھر آپ نے اجمالاًان کو کعب کی عہد شکنی اور تحریک جنگ اور فتنہ انگیزی اور بخش گوئی اور سازش قتل وغیرہ کی کارروائیاں یاد دلائیں تے جس پر یہ لوگ ڈر کر خاموش ہو گئے۔" اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہیں چاہئے کہ کم از کم آئندہ کے لئے ہی امن اور تعاون کے ساتھ رہو اور عداوت اور فتنہ وفساد کا بیج نہ بوؤ۔چنانچہ یہود کی رضامندی کے ساتھ آئندہ کے لئے ایک نیا معاہدہ لکھا گیا اور یہود نے مسلمانوں کے ساتھ امن وامان کے ساتھ رہنے اور فتنہ و فساد کے طریقوں سے بچنے کا از سرنو وعدہ کیا۔" اور یہ عہد نامہ حضرت علی کی سپردگی میں دے دیا گیا۔اور تاریخ میں کسی جگہ مذکور نہیں کہ اس کے بعد یہودیوں نے کبھی کعب بن اشرف کے قتل کا ذکر کر کے مسلمانوں پر الزام قائم کیا ہو کیونکہ ان کے دل محسوس کرتے تھے کہ کعب اپنی مستحق سزا کو پہنچا ہے۔کعب بن اشرف کے قتل پر بعض مغربی مؤرخین نے بڑی خامہ فرسائی کی ہے اور اس واقعہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن پر ایک بدنما دھبے کے طور پر ظاہر کر کے اعتراضات جمائے ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اول آیا یقتل فی ذاتہ ایک جائز فعل تھا یا نہیں؟ دوسرے آیا جوطریق اس قتل کے واسطے اختیار کیا گیا وہ جائز تھایا نہیں ؟ امراوّل کے متعلق تو یہ یا درکھنا چاہئے کہ کعب بن اشرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باقاعدہ امن وامان کا معاہدہ کر چکا تھا اور مسلمانوں کے خلاف کارروائی کرنا تو درکنار رہا اس نے اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ ہر بیرونی دشمن کے خلاف مسلمانوں کی امداد کرے گا اور مسلمانوں کے ساتھ بخاری باب قتل کعب بن اشرف فتح الباری جلد ۷ صفحه ۲۶۲ و زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۴ ابوداؤ د کتاب الخراج و نیز ابن سعد ابوداؤ د كتاب الخراج باب كيف كان اخراج اليهود ونيز ابن سعد ۵ : ابن سعد