سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 533 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 533

۵۳۳ مارنے کی تیاری کر چکے تھے ؟ اس وقت کی عرب کی حالت پر غور کرو اور پھر سوچو کہ مسلمانوں کے لئے سوائے اس کے وہ کون سا راستہ کھلا تھا کہ جب ایک شخص کی اشتعال انگیزی اور تحریک جنگ اور فتنہ پردازی اور سازش قتل کی وجہ سے اس کی زندگی کو اپنے لئے اور ملک کے امن کے لئے خطرناک پاتے تو خود حفاظتی کے خیال سے موقع پا کر اسے خود قتل کر دیتے کیونکہ یہ بہت بہتر ہے کہ ایک شریر اور مفسد آدمی قتل ہو جاوے بجائے اس کے کہ بہت سے پر امن شہریوں کی جان خطرے میں پڑے اور ملک کا امن برباد ہو۔پھر جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اس معاہدہ کی رو سے جو ہجرت کے بعد مسلمانوں اور یہود کے درمیان ہوا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک معمولی شہری کی حیثیت حاصل نہ تھی، بلکہ آپ اس جمہوری سلطنت کے صدر قرار پائے تھے جو مدینہ میں قائم ہوئی تھی۔اور آپ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ جملہ تنازعات اور امور سیاسی جو فیصلہ مناسب خیال کریں صادر فرمائیں۔پس اگر آپ نے ملک کے امن کے مفاد میں کعب کی فتنہ پردازی کی وجہ سے اسے واجب القتل قرار دیا تو آج تیرہ سوسال گزرنے پر جبکہ اس زمانہ کے بہت سے تفصیلی حالات بھی ہمارے سامنے موجود نہیں ہیں کسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ آپ کے فیصلہ پر عدالت اپیل بن کر بیٹھے۔خصوصاً جبکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ خود یہود نے کعب کی اس سزا کو اس کے جرموں کی روشنی میں واجبی سمجھ کر خاموشی اختیار کی اور اس پر اعتراض نہیں کیا اور اگر یہ اعتراض کیا جاوے کہ ایسا کیوں نہیں کیا گیا کہ قتل کا حکم دینے سے پہلے یہود کو بلا کر ان کو کعب کے یہ جرم سنائے جاتے اور حجت پوری کرنے کے بعد اس کے قتل کا باقاعدہ اور برملاطور پر حکم دیا جاتا، تو اس کا جواب اوپر گزر چکا ہے کہ اس وقت حالات ایسے نازک ہورہے تھے کہ ایسا طریق اختیار کرنے سے بین الاقوام پیچیدگیوں کے بڑھنے کا سخت خطرہ تھا اور کوئی تعجب نہ تھا کہ مدینہ میں ایک خطرناک سلسلہ کشت وخون اور خانہ جنگی کا شروع ہو جاتا۔پس ان کاموں کی طرح جو جلد اور خاموشی کے ساتھ ہی کر گزرنے سے فائدہ مند ہوتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امن عامہ کے خیال سے یہی مناسب سمجھا کہ خاموشی کے ساتھ کعب کی سزا کا حکم جاری کر دیا جاوے مگر اس میں قطعاً کسی قسم کے دھو کے کا دخل نہ تھا اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ منشاء تھا کہ یہ سزا ہمیشہ کے لئے بصیغہ راز رہے کیونکہ جونہی یہود کا وفد دوسرے دن صبح آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فوراً بلا توقف انہیں ساری سرگزشت سنا دی اور اس فعل کی پوری پوری ذمہ داری اپنے اوپر لے کر یہ ثابت کر دیا کہ اس میں کوئی دھو کے وغیرہ کا سوال نہیں ابن ہشام