سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 529
۵۲۹ جذبات انتقام وعداوت سے بھر دئے۔اور جب کعب کی اشتعال انگیزی سے ان کے احساسات میں ایک انتہائی درجہ کی بجلی پیدا ہو گئی تو اس نے ان کو خانہ کعبہ کے صحن میں لے جا کر اور کعبہ کے پردے ان کے ہاتھوں میں دے دے کر ان سے قسمیں لیں کہ جب تک اسلام اور بانی اسلام کو صفحہ نیا سے ملیا میٹ نہ کر دیں گے ، اس وقت تک چین نہ لیں گے۔مکہ میں یہ آتش فشاں فضا پیدا کر کے اس بد بخت نے دوسرے قبائل عرب کا رخ کیا اور قوم بقوم پھر کر مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو بھڑ کا یا۔اور پھر مدینہ میں واپس آکر مسلمان خواتین پر تشبیب کہی۔یعنی اپنے جوش دلانے والے اشعار میں نہایت گندے اور مخش طریق پر مسلمان خواتین کا ذکر کیا ہے حتی کہ خاندان نبوت کی مستورات کو بھی اپنے ان او باشانہ اشعار کا نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کیا۔اور ملک میں ان اشعار کا چرچا کروایا۔اور بالآخر اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش کی اور آپ کو کسی دعوت وغیرہ کے بہانے سے اپنے مکان پر بلا کر چندنو جوان یہودیوں سے آپ کو قتل کروانے کا منصو بہ باندھا۔مگر خدا کے فضل سے وقت پر اطلاع ہو گئی اور اس کی یہ سازش کامیاب نہیں ہوئی۔جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی اور کعب کے خلاف عہد شکنی، بغاوت ،تحریک جنگ فتنہ پردازی ،مخش گوئی اور سازش قتل کے الزامات پایہ ثبوت کو پہنچ گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اس بین الاقوام معاہدہ کی رو سے جو آپ کے مدینہ میں تشریف لانے کے بعد اہالیان مدینہ میں ہوا تھ مدینہ کی جمہوری سلطنت کے صدر اور حاکم اعلیٰ تھے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ کعب بن اشرف اپنی کاروائیوں کی وجہ سے واجب القتل ہے اور اپنے بعض صحابیوں کو ارشاد فرمایا کہ اسے قتل کر دیا جا وے۔لیکن چونکہ اس وقت کعب کی فتنہ انگیزیوں کی وجہ سے مدینہ کی فضا ایسی ہو رہی تھی کہ اگر اس کے خلاف باضابطہ طور پر اعلان کر کے اسے قتل کیا جاتا تو مدینہ میں ایک خطرناک خانہ جنگی شروع ہو جانے کا احتمال تھا۔جس میں نہ معلوم کتنا کشت وخون ہوتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہرممکن اور جائز قربانی کر کے بین الاقوام کشت و خون کو روکنا چاہتے تھے۔آپ نے یہ ہدایت فرمائی کہ کعب کو بر ملا طور پر قتل نہ کیا جاوے بلکہ چند لوگ خاموشی کے ساتھ : فتح الباری جلد ے صفحہ ۲۵۹ ا ابو داؤ د کتاب الخراج نیز ابن ہشام وابن سعد زرقانی جلد ۲ صفحه ۹ خمیس جلد اصفحه ۴ ۴۷ و زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۰ : ابن ہشام ۵ : طبری والروض الانف کے ابوداؤ د کتاب الخراج نیز بخاری باب قتل کعب بن اشرف