سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 530
۵۳۰ کوئی مناسب موقع نکال کر اسے قتل کر دیں اور یہ ڈیوٹی آپ نے قبیلہ اوس کے ایک مخلص صحابی محمد بن مسلمہ کے سپر دفرمائی اور انہیں تاکید فرمائی کہ جو طریق بھی اختیار کریں قبیلہ اوس کے رئیس سعد بن معاذ کے مشورہ سے کریں یا محمد بن مسلمہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ خاموشی کے ساتھ قتل کرنے کے لئے تو کوئی بات کہنی ہوگی۔یعنی کوئی عذر وغیرہ بنانا پڑے گا جس کی مدد سے کعب کو اس کے گھر سے نکال کر کسی محفوظ جگہ میں قتل کیا جا سکے۔آپ نے ان عظیم الشان اثرات کا لحاظ رکھتے ہوئے جو اس موقع پر ایک خاموش سزا کے طریق کو چھوڑنے سے پیدا ہو سکتے تھے فرمایا ” اچھا۔چنانچہ محمد بن مسلمہ نے سعد بن معاذ کے مشورہ سے ابونا ئلہ اور دو تین اور صحابیوں کو اپنے ساتھ لیا اور کعب کے مکان پر پہنچے اور کعب کو اس کے اندرون خانہ سے بلا کر کہا کہ ” ہمارے صاحب یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے صدقہ مانگتے ہیں اور ہم تنگ حال ہیں۔کیا تم مہربانی کر کے ہمیں کچھ قرض دے سکتے ہو؟ یہ بات سن کر کعب خوشی سے کود پڑا اور کہنے لگا۔واللہ ابھی کیا ہے، وہ دن دور نہیں جب تم اس شخص سے بیزار ہوکر اسے چھوڑ دو گے۔محمد نے جواب دیا۔خیر ہم تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اختیار کر چکے ہیں اور اب ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ اس سلسلہ کا انجام کیا ہوتا ہے۔مگر تم یہ بتاؤ کہ قرض دو گے یا نہیں ؟ کعب نے کہا ”ہاں ! مگر کوئی چیز رہن رکھو۔“ محمد نے پوچھا کیا چیز ؟ اس بدبخت نے جواب دیا۔” اپنی عورتیں رہن رکھ دو۔محمد نے غصہ کو دبا کر کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تمہارے جیسے آدمی کے پاس ہم اپنی عورتیں رہن رکھ دیں۔اس نے کہا اچھا تو پھر بیٹے سہی۔محمد نے جواب دیا کہ یہ بھی ناممکن ہے۔ہم سارے عرب کا طعن اپنے سر پر نہیں لے سکتے ، البتہ اگر تم مہربانی کرو تو ہم اپنے ہتھیار رہن رکھ دیتے ہیں۔کعب راضی ہو گیا اور محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھی رات کو آنے کا وعدہ دے کر واپس چلے آئے۔جب رات ہوئی تو یہ پارٹی ہتھیار وغیرہ ساتھ لے کر ( کیونکہ اب وہ بر ملا طور پر ہتھیار اپنے ساتھ لے جاسکتے تھے ) کعب کے مکان پر پہنچے اور اسے اس کے گھر سے نکال کر باتیں کرتے کرتے ایک طرف کو لے آئے۔تھوڑی دیر بعد چلتے چلتے محمد بن مسلمہ یا ان کے کسی ساتھی نے کسی بہانے سے کعب کے سر پر ہاتھ ڈالا اور نہایت پھرتی کے ساتھ اس کے بالوں کو مضبوطی سے قابو کر کے زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۰ ہے : یہ بات گو اس موقع کے لئے اختیار کی گئی ہو مگر اپنی جگہ درست تھی کیونکہ واقعی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابیوں سے قومی ضروریات کے لئے چندے اور زکوۃ کا مطالبہ فرمایا کرتے تھے اور یہ بھی درست ہے کہ صحابہ عمو مانا دار اور غریب تھے۔