سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 528
۵۲۸ دیا کرتا تھا لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد یہ لوگ اپنے سالانہ وظائف لینے کے لئے اس کے پاس گئے تو اس نے باتوں باتوں میں ان کے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر شروع کر دیا اور ان سے آپ کے متعلق مذہبی کتب کی بنا پر رائے دریافت کی۔انہوں نے کہا کہ بظاہر تو یہ وہی نبی معلوم ہوتا ہے جس کا ہمیں وعدہ دیا گیا تھا۔کعب اس جواب پر بہت بگڑا اور ان کو سخت سست کہہ کر وہاں سے رخصت کر دیا۔اور جو خیرات انہیں دیا کرتا وہ نہ دی۔یہودی علماء کی جب روزی بند ہوئی تو کچھ عرصہ کے بعد پھر کعب کے پاس گئے اور کہا کہ ہمیں علامات کے سمجھنے میں غلطی لگ گئی تھی ہم نے دوبارہ غور کیا ہے در اصل محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ نبی نہیں ہے جس کا وعدہ دیا گیا تھا۔اس جواب سے کعب کا مطلب حل ہو گیا اور اس نے خوش ہو کر ان کو سالانہ خیرات دے دی۔خیر یہ تو ایک مذہبی مخالفت تھی جو گونا گوار صورت میں اختیار کی گئی لیکن چنداں قابل اعتراض نہیں ہو سکتی تھی اور نہ اس بنا پر کعب کو زیر الزام سمجھا جاسکتا تھا، مگر اس کے بعد کعب کی مخالفت زیادہ خطرناک صورت اختیار کرتی گئی اور بالآخر جنگ بدر کے بعد تو اس نے ایسا رویہ اختیار کیا جو سخت مفسدانہ اور فتنہ انگیز تھا۔اور جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے لئے نہایت خطرناک حالات پیدا ہو گئے۔در اصل بدر سے پہلے کعب یہ سمجھتا تھا کہ مسلمانوں کا یہ جوش ایمان ایک عارضی چیز ہے اور آہستہ آہستہ یہ سب لوگ خود بخود منتشر ہو کر اپنے آبائی مذہب کی طرف لوٹ جائیں گے لیکن جب بدر کے موقع پر مسلمانوں کو ایک غیر معمولی فتح نصیب ہوئی اور رؤساء قریش اکثر مارے گئے تو اس نے سمجھ لیا کہ اب یہ نیا دین یو نہی مئتا نظر نہیں آتا۔چنانچہ بدر کے بعد اس نے اپنی پوری کوشش اسلام کے مٹانے اور تباہ و برباد کر نے میں صرف کر دینے کا تہیہ کر لیا۔اس کے دلی بغض وحسد کا سب سے پہلا اظہار اس موقع پر ہوا جبکہ بدر کی فتح کی خبر مدینہ میں پہنچی۔اس خبر کو سن کر کعب نے علی رؤس الا شہاد یہ کہا کہ یہ خبر بالکل جھوٹی معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ مکن نہیں کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے ایسے بڑے لشکر پر فتح حاصل ہوا اور مکہ کے اتنے نامور رئیس خاک میں مل جائیں اور اگر یہ خبر سچ ہے تو پھر اس زندگی سے مرنا بہتر ہے۔جب اس خبر کی تصدیق ہوگئی اور کعب کو یہ یقین ہو گیا کہ واقعی بدر کی فتح نے اسلام کو وہ استحکام دے دیا ہے جس کا اسے وہم و گمان بھی نہ تھا تو وہ غیض و غضب سے بھر گیا اور فور أسفر کی تیاری کر کے اس نے مکہ کی راہ لی اور وہاں جا کر اپنی چرب زبانی اور شعر گوئی کے زور سے قریش کے دلوں کی سلگتی ہوئی آگ کو شعلہ بار کر دیا اور ان کے دل میں مسلمانوں کے خون کی نہ سمجھنے والی پیاس پیدا کر دی اور ان کے سینے زرقانی جلد ۲ صفحه ۸ : ابن ہشام وابن سعد