سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 516 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 516

۵۱۶ ہیں آپ ان سے فرما دیں کہ وہ اپنا کوئی مکان خالی کر دیں۔آپ نے فرمایا وہ ہماری خاطر اتنے مکانات پہلے ہی خالی کر چکے ہیں، اب مجھے تو انہیں کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔حارثہ کو کسی طرح اس کا علم ہوا تو وہ بھاگے آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میرا جو کچھ ہے وہ حضور کا ہے اور واللہ جو چیز آپ مجھ سے قبول فرما لیتے ہیں وہ مجھے زیادہ خوشی پہنچاتی ہے بہ نسبت اس چیز کے جو میرے پاس رہتی ہے اور پھر اس مخلص صحابی نے باصرار اپنا ایک مکان خالی کروا کے پیش کر دیا اور حضرت علی اور فاطمہ وہاں اٹھ گئے۔اس جگہ یہ ذکر بھی بے موقع نہ ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری اولاد میں صرف حضرت فاطمہ ہی آپ کی وفات کے بعد زندہ رہیں باقی سب بچے آپ کی زندگی میں فوت ہو گئے تھے۔حضرت۔فاطمہ کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری اولاد میں صرف انہی کی نسل کا سلسلہ قائم رہا۔چنانچہ مسلمانوں میں سادات کی قوم انہی کی نسل سے ہے۔حضرت فاطمہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چھ ماہ بعد وفات پائی ہے غزوہ بنو قینقاع اواخر ۲ ہجری یہ بتایا جا چکا ہے کہ جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں تشریف لائے تھے اس وقت مدینہ میں یہود کے تین قبائل آباد تھے۔ان کے نام بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنوقریظہ تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں آتے ہی ان قبائل کے ساتھ امن وامان کے معاہدے کر لئے اور آپس میں صلح اور امن کے ساتھ رہنے کی بنیاد ڈالی۔معاہدہ کی رو سے فریقین اس بات کے ذمہ دار تھے کہ مدینہ میں امن وامان قائم رکھیں اور اگر کوئی بیرونی دشمن مدینہ پر حملہ آور ہو تو سب مل کر اس کا مقابلہ کریں سے شروع شروع میں تو یہود اس معاہدہ کے پابند رہے اور کم از کم ظاہری طور پر انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کوئی جھگڑا پیدا نہیں کیا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان مدینہ میں زیادہ اقتدار حاصل کرتے جاتے ہیں تو ان کے تیور بدلنے شروع ہوئے اور انہوں نے مسلمانوں کی اس بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کا تہیہ کر لیا اور اس غرض کے لئے انہوں نے ہر قسم کی جائز و نا جائز تدابیر اختیار کرنی شروع کیں حتی کہ انہوں اس بات کی کوشش سے بھی دریغ نہیں کیا کہ مسلمانوں کے اندر پھوٹ پیدا کر کے خانہ جنگی شروع کرا دیں۔چنانچہ روایت آتی ابن سعد جلد ۸ صفحه ۱۴ بخاری : اصابه ابن ہشام حالات معاہدہ یہود وطبری صفحه ۱۳۹۵