سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 517 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 517

۵۱۷ ہے کہ ایک موقع پر قبیلہ اوس اور خزرج کے بہت سے لوگ اکٹھے بیٹھے ہوئے باہم محبت واتفاق سے باتیں کر رہے تھے کہ بعض فتنہ پرداز یہود نے اس مجلس میں پہنچ کر جنگ بعاث کا تذکرہ شروع کر دیا۔یہ وہ خطر ناک جنگ تھی جو ان دو قبائل کے درمیان ہجرت سے چند سال قبل ہوئی تھی اور جس میں اوس اور خزرج کے بہت سے لوگ ایک دوسرے کے ہاتھ سے مارے گئے تھے۔اس جنگ کا ذکر آتے ہی بعض جو شیلے لوگوں کے دلوں میں پرانی یاد تازہ ہوگئی اور گزشتہ عداوت کے منظر آنکھوں کے سامنے پھر گئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ با ہم نوک جھونک اور طعن و تشنیع سے گزر کر نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اسی مجلس میں مسلمانوں کے اندر تلوار کھیچ گئی مگر خیر گزری کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بر وقت اس کی اطلاع مل گئی اور آپ مہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ فوراً موقع پر تشریف لے آئے اور فریقین کو سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کیا اور پھر ملامت بھی فرمائی کہ تم میرے ہوتے ہوئے جاہلیت کا طریق اختیار کرتے ہو اور خدا کی اس نعمت کی قدر نہیں کرتے کہ اس نے اسلام کے ذریعہ تمہیں بھائی بھائی بنا دیا ہے۔انصار پر آپ کی اس نصیحت کا ایسا اثر ہوا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور وہ اپنی اس حرکت سے تائب ہوکر ایک دوسرے سے بغلگیر ہو گئے۔جب جنگ بدر ہو چکی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مسلمانوں کو باوجود ان کی قلت اور بے سروسامانی کے قریش کے ایک بڑے جزار لشکر پر نمایاں فتح دی اور مکہ کے بڑے بڑے عمائد خاک میں مل گئے تو مدینہ کے یہودیوں کی مخفی آتش حسد بھڑک اٹھی اور انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کھلم کھلا نوک جھونک شروع کردی اور مجلسوں میں برملا طور پر کہنا شروع کیا کہ قریش کے لشکر کو شکست دینا کون سی بڑی بات تھی ہمارے ساتھ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا مقابلہ ہوتو ہم بتادیں کہ کس طرح لڑا کرتے ہیں۔حتی کہ ایک مجلس میں انہوں نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر اسی قسم کے الفاظ کہے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ جنگ بدر کے بعد جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے ایک دن یہودیوں کو جمع کر کے ان کو نصیحت فرمائی اور اپنا دعویٰ پیش کر کے اسلام کی طرف دعوت دی۔آپ کی اس پر امن اور ہمدردانہ تقریر کا رؤسائے یہود نے ان الفاظ میں جواب دیا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تم شاید چند قریش کو قتل کر کے مغرور ہو گئے ہو وہ لوگ لڑائی کے فن سے نا واقف تھے۔اگر ہمارے ساتھ تمہارا مقابلہ ہو تو تمہیں پتہ لگ جاوے کہ لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں۔کے یہود نے صرف عام دھمکی پر ہی اکتفا نہیں کی ا تفسیر ابن جریر جلد ۴ صفحه ۱۶ طبری صفحه ۱۳۵۹ سطر ۱۴، ۱۵ ابو داؤد کتاب الخراج باب کیف کان اخراج الیہود وطبری صفحه ۱۳۶۰ وابن ہشام