سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 511 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 511

۵۱۱ قبائل نجد اور یہود کے ساتھ جنگ کا آغاز حضرت فاطمہ اور حفصہ کی شادی بعض متفرق واقعات غزوہ قرقرة الكدر شوال ۲ ہجری یہ بتایا جاچکا ہے کہ ہجرت کے بعد قریش مکہ نے مختلف قبائل عرب کا دورہ کر کے بہت سے قبائل کو مسلمانوں کا جانی دشمن بنا دیا تھا۔ان قبائل میں طاقت اور جتھے کے لحاظ سے زیادہ اہم عرب کے وسطی علاقہ نجد کے رہنے والے دو قبیلے تھے۔جن کا نام بنوسلیم اور بنو غطفان تھا اور قریش مکہ نے ان دو قبائل کو خصوصیت کے ساتھ اپنے ساتھ گانٹھ کر مسلمانوں کے خلاف کھڑا کر دیا تھا۔چنانچہ سرولیم میور لکھتے ہیں کہ 66 قریش مکہ نے اب اپنی توجہ اس نجدی علاقہ کی طرف پھیری اور اس علاقہ کے قبائل کے ساتھ آگے سے بھی زیادہ گہرے تعلقات قائم کر لئے اور اس وقت کے بعد قبائل سلیم وغطفان محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے سخت دشمن ہو گئے اور ان کی اس دشمنی نے مسلمانوں کے خلاف عملی صورت اختیار کر لی۔چنانچہ قریش کی اشتعال انگیزی اور ابوسفیان کے عملی نمونہ کے نتیجہ میں انہوں نے مدینہ پر حملہ آور ہونے کی تجویز پختہ کر لی۔“ چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بدر سے واپس تشریف لائے تو ابھی آپ کو مدینہ میں پہنچے ہوئے صرف چند دن ہی ہوئے تھے کہ آپ کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ قبائل سلیم وغطفان کا ایک بڑا لشکر مدینہ پر حملہ آور ہونے کی نیت سے قرقرۃ الکدر میں جمع ہو رہا ہے۔" جنگ بدر کے اس قدر قریب اس اطلاع کا آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب قریش کا لشکر مسلمانوں کے خلاف حملہ آور ہونے کی نیت سے مکہ سے نکلا تھا تو رؤساء قریش نے اسی وقت قبائل سلیم و غطفان کو یہ پیغام بھیج دیا ہوگا کہ تم دوسری طرف سے ابن ہشام حالات غزوہ بنی سلیم با لکدر : ابن سعد لائف آف محمد صفحه ۲۳۶، ۲۳۷