سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 512
۵۱۲ مدینہ پر حملہ آور ہو جاؤ۔یا یہ بھی ممکن ہے کہ جب ابوسفیان اپنے قافلہ کے ساتھ بیچ کر نکل گیا تو اس نے کسی قاصد وغیرہ کے ذریعہ ان قبائل کو مسلمانوں کے خلاف نکلنے کی تحریک کی ہو۔بہر حال ابھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنگ بدر سے فارغ ہو کر مدینہ میں پہنچے ہی تھے کہ یہ وحشتناک اطلاع موصول ہوئی کہ قبائل سلیم و غطفان مسلمانوں پر حملہ کرنے والے ہیں۔یہ خبر سن کر آپ فوراصحابہ کی ایک جمعیت کو ساتھ لے کر پیش بندی کے طور پر نجد کی طرف روانہ ہو گئے لیکن جب آپ کئی دن کا تکلیف دہ سفر طے کر کے موضع الکدر کے قرقره یعنی چٹیل میدان میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ بنوسلیم اور بنو غطفان کے لوگ لشکر اسلام کی آمد آمد کی خبر پا کر پاس کی پہاڑیوں میں جا چھپے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں مسلمانوں کا ایک دستہ روانہ فرمایا اور خود بطن وادی کی طرف بڑھے، مگر ان کا کچھ سراغ نہیں ملالے البتہ ان کے اونٹوں کا ایک بڑا گلہ ایک وادی میں چرتا ہوا مل گیا جس پر قوانین جنگ کے ماتحت صحابہ نے قبضہ کر لیا اور اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کو واپس لوٹ آئے۔ان اونٹوں کا چرواہا ایک سیار نامی غلام تھا جو اونٹوں کے ساتھ قید کر لیا گیا تھا۔اس شخص پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا ایسا اثر ہوا کہ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ وہ مسلمان ہو گیا اور گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب عادت اسے بطور احسان کے آزاد کر دیا ہے مگر وہ مرتے دم تک آپ کی خدمت سے جدا نہیں ہوا۔کے غزوہ سویق ذوالحجہ ہ ہجری بدر کے نتیجہ میں جو ماتم مکہ میں بپا ہوا تھا اسکا ذکر اوپرگزر چکا ہے۔قریباً سارے رؤساء قریش قتل ہو چکے تھے اور اب مکہ کی ریاست ابوسفیان بن حرب کے حصہ میں آئی تھی۔چنانچہ بدر کے بعد ابوسفیان نے قسم کھائی تھی کہ جب تک مقتولین بدر کا انتقام نہ لے لے گا کبھی اپنی بیوی کے پاس نہ جائے گا۔اور نہ کبھی اپنے بالوں کو تیل لگائے گا۔چنانچہ بدر کے دو تین ماہ بعد ذوالحجہ کے مہینہ میں ابوسفیان دو سو سلح قریش کی جمعیت کو اپنے ساتھ لے کر مکہ سے نکلا اور نجدی راستہ کی طرف سے ہوتا ہوا مدینہ کے پاس پہنچ گیا۔یہاں پہنچ کر اس نے اپنے لشکر کو تو مدینہ سے کچھ فاصلہ پر چھوڑا اور خود رات کی تاریکی کے پردہ میں چھپتا ہوا یہودی قبیلہ بنونضیر کے رئیس حیی بن اخطب کے مکان پر پہنچا اور اس سے امداد چاہی مگر چونکہ اس کے دل میں اپنے عہد و پیمان کی کچھ یاد باقی تھی اس نے انکار کیا۔پھر ابوسفیان اسی طرح چھپتا ہوا بنونضیر کے دوسرے رئیس سلام بن مشکم کے مکان پر زرقانی ابن سعد ۳: اسد الغابہ جلد ۵ صفحه ۱۲۴ ابن ہشام ه: ابن سعد