سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 501 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 501

۵۰۱ مستغنی تھے۔دراصل چونکہ آپ ایک شرعی نبی تھے اور آپ کے ذریعہ سے دنیا میں ایک نئے شرعی قانون اور نئے تہذیب و تمدن کی بنیاد پڑنی تھی اس لیے صرف اس قدر کافی نہیں تھا کہ آپ کے ذریعہ نئے احکام کی اشاعت ہو جاتی بلکہ اس بات کی بھی ضرورت تھی کہ آپ خود اپنی نگرانی میں اس نئی شریعت کو تفصیلاً جاری فرماتے اور لوگوں کی زندگیوں کو اس جدید داغ بیل پر عملاً چلا دیتے جو اسلام نے قائم کی تھی۔یہ کام ایک نہایت مشکل اور نازک کام تھا اور گومردوں کے معاملہ میں بھی آپ کے رستے میں بہت سی مشکلات تھیں لیکن مستورات کے متعلق تو یہ ایک نہایت ہی مشکل کام تھا کیونکہ اول تو بوجہ ان کے عموماً اپنے گھروں میں رہنے اور اپنے خانگی مشاغل کی مصروفیت کے انہیں آپ کی صحبت سے مستفیض ہونے کے زیادہ موقعے نہیں تھے۔دوسرے اس طبعی حیاء کی وجہ سے جو عورتوں میں ہوتی ہے وہ ان مخصوص مسائل کو جو عورتوں کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں زیادہ آزادی کے ساتھ آپ سے دریافت نہیں کر سکتی تھیں اور اس کے مقابلہ میں عورتوں میں تعلیم کی نسبتا کمی اور جاہلانہ رسوم کی پابندی نسبتا زیادہ ہوتی ہے۔جس کی وجہ سے وہ اپنے مقررہ طریق میں کسی قسم کی تبدیلی کرنے کے لیے جلد تیار نہیں ہوتیں ان حالات میں عورتوں کی تعلیم و تربیت کے متعلق خاص انتظام کی ضرورت تھی اور اس کی بہترین صورت یہی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مناسب عورتوں کے ساتھ شادی کر کے انہیں اپنی تربیت میں اس کام کے قابل بنادیں اور پھر آپ کی یہ ازواج مسلمان عورتوں کی تعلیم و تربیت کا کام سرانجام دیں؛ چنانچہ یہ تجویز کارگر ہوئی اور مسلمان عورتوں نے بڑی خوبی کے ساتھ اور نہایت قلیل عرصہ میں اپنی زندگیوں کو جدید شریعت کے مطابق بنالیا۔حتی کہ دنیا کی کسی قوم میں یہ مثال نظر نہیں آتی کہ طبقہ نسواں نے ایسے قلیل عرصہ میں اور اس درجہ تکمیل کے ساتھ ایک بالکل نئے قانون اور نئے تہذیب و تمدن کو اختیار کر لیا ہو۔اس بات کا ایک عملی ثبوت کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شادیاں نفسانی اغراض کے ماتحت نہیں تھیں بلکہ دینی اغراض کے ماتحت تھیں اس بات سے بھی ملتا ہے کہ آپ نے بعض ایسی عورتوں کے ساتھ شادی فرمائی جو اتنی عمر کو پہنچ چکی تھیں کہ وہ اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں رہی تھیں۔مثلاً حضرت ام سلمہ جن سے آپ نے ۴ ہجری میں شادی فرمائی۔ان کی عمر شادی کے وقت پیدائش اولا دوغیرہ کی حد سے تجاوز کر چکی تھی۔چنانچہ انہوں نے اس بنا پر عذر بھی کیا مگر چونکہ آپ کی غرض و غایت دینی تھی اور اس غرض کے لیے وہ بہت مناسب تھیں۔اس لیے آپ نے ان کو باصرار رضامند کر کے ان کے ساتھ شادی فرمالی۔اے ل : نسائی بحوالہ زرقانی جلد ۲ حالات ام سلمہ وا ابن سعد جلد ۸ حالات ام سلمه