سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 485
۴۸۵ کے درمیان کا عرصہ انہیں ماہ یعنی ایک سال اور سات ماہ کا ہوا۔اب اگر اس عرصہ کو دس سال اور کچھ ماہ کے عرصہ کے ساتھ ملا ئیں جو ہجرت سے قبل کا ہے تو اس کی میزان وہی بارہ سال ہوتی ہے جو ہم نے دوسری جہت سے قرار دی ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ خواہ حضرت عائشہؓ کے اندازے سے حساب شماری کریں یا یہ کہ ان کی تاریخ پیدائش سے شمار کریں نتیجہ دونوں صورتوں کا یہی ہے کہ رخصتانہ کے وقت حضرت عائشہ کی عمر بارہ سال کی تھی نہ کہ نو سال کی اور یقیناً حضرت عائشہ کا یہ خیال کہ اُس وقت میری عمر نو سال کی تھی غلط اندازے یا غلط حساب شماری پر بنی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب انہوں نے مہینوں کی کسر چھوڑ کر اپنے نکاح کی عمر کا اندازہ چھ سال لگایا تو اس کے بعد انہوں نے حسابی طور پر درمیانی عرصہ کو مار نہیں کیا بلکہ یونہی موٹے طور پر اندازہ کر لیا کہ رخصتانہ کے وقت ان کی عمر نو سال کی ہوگی اور پھر یہی خیال ان کے دل میں قائم ہو گیا۔یا یہ بھی ممکن ہے کہ چونکہ اس وقت تک ابھی جنتری وغیرہ کا حساب مروج نہیں ہوا تھا اور ہجری کی تاریخ بھی ابھی ضبط و تدوین میں نہیں آئی تھی اور پھر شادی اور رخصتانہ کے درمیان کی میعاد بھی دو مختلف سنین ( یعنی سن نبوی اور سن ہجری) کے حسابات سے تعلق رکھتی تھی اس لیے حضرت عائشہ سے حساب شماری میں سہوا غلطی ہوگئی ہو اور پھر یہ غلط خیال ان کے دل میں ایسا راسخ ہو گیا ہو کہ بعد میں کبھی اس حسابی غلطی کی طرف ان کا ذہن منتقل ہی نہ ہوا ہو لیکن بہر حال کچھ بھی ہو اگر یہ بات ٹھیک ہے کہ نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر سات سال یا اس کے قریب تھی تو پھر رخصتانہ کے وقت نو سال کی عمر کا اندازہ کسی صورت میں بھی درست نہیں سمجھا جا سکتا اور یہ ایک حسابی سوال ہے جس کے مقابلہ میں کوئی اور دلیل نہیں ٹھہر سکتی۔خلاصہ کلام یہ کہ خواہ کسی جہت سے بھی دیکھا جاوے رخصتانہ کے وقت حضرت عائشہ کی عمر بارہ سال یا اس کے قریب قریب ہوتی ہے اور اگر رخصتانہ کی تاریخ شوال اہجری قرار دی جاوے تو پھر بھی ان کی عمر گیارہ سال کی بنتی ہے۔پس نو سال کا اندازہ بہر حال غلط اور نا درست ہے۔لیکن اگر بالفرض نو سال کی عمر کو ہی صحیح تسلیم کر لیا جاوے تو پھر بھی کوئی جائے اعتراض نہیں ہے، کیونکہ عرب جیسے ملک میں نو یا دس سال کی لڑکی کا بالغ ہو جانا بعید از قیاس نہیں۔خود ہمارے ہندوستان میں بھی بعض لڑکیاں جن میں نشو و نما کا مادہ غیر معمولی طور پر زیادہ ہوتا ہے۔دس سال کی عمر میں بالغ ہو جاتی ہیں۔دراصل بلوغ کا انحصار زیادہ تر آب و ہوا اور خوراک اور گردو پیش کے حالات پر ہوتا ہے۔ٹھنڈے ممالک میں اور خصوصاً ایسے ممالک میں جہاں کی خوراک میں گرم مسالہ جات کا دخل کم ہوتا ہے لڑکیاں عموماً بہت دیر میں بالغ ہوتی ہیں؛ چنانچہ انگلستان وغیرہ میں سن بلوغ اوسطاً اٹھارہ سال کا ہوتا ہے اورلڑکیوں کی