سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 484
۴۸۴ اوپر کی کسر کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور اوپر کے سال کا نام صرف اسی وقت لیا جاتا ہے کہ جبکہ یا تو اوپر کا سال پورا ہو چکا ہو اور یا پورا ہونے کے اس قدر قریب ہو کہ عملاً اسے پورا سمجھا جا سکے۔پس حضرت عائشہ کی عمر کے متعلق بعض روایات میں چھ سال کا ذکر آنا اور بعض میں سات سال کا یقینی طور پر اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر چھ سے گذر کے سات کے اس قدر قریب پہنچ چکی تھی کہ اس پر سات سال کا اطلاق عام محاورہ کی رو سے جائز ہو گیا تھا اور صرف تھوڑی سی برائے نام کمی کی وجہ سے چھ سال کا لفظ استعمال کر لیا جاتا تھاور نہ عمل ان کی عمر سات سال کی ہی تھی ، چنا نچہ اسی خیال کے ماتحت بعض مؤرخین نے چھ سال کے ذکر کو بالکل ترک کر دیا ہے اور صرف سات سال کا ذکر کیا ہے مثلاً ابن ہشام نے چھ سال کا ذکر تک نہیں کیا اور صرف سات سال کا ذکر کیا ہے اور اس کے مقابلہ میں میری نظر سے کوئی ایسی مستند تاریخ کی کتاب نہیں گذری جس میں صرف چھ سال کے ذکر پر اکتفاء کیا گیا ہو۔پھر صاحب سیرت حلبیہ نے بھی جہاں ازواج النبی کا ذکر کیا ہے، وہاں حضرت عائشہ کی عمر صرف سات سال بیان کی ہے اور چھ سال کا ذکر نہیں کیا۔اور حضرت عائشہ کے نکاح کے بیان میں ذکر تو دونوں کا ہے مگر صراحنا لکھا ہے کہ سات سال والی روایت اقرب بالصحت ہے۔اندریں حالات گوروایتاً دونوں قسم کی روایتیں صحیح ہیں مگر درایت کے طریق پر اس بات میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں کبھی جاسکتی کہ نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر سات سال کے اس قدر قریب پہنچی ہوئی تھی کہ گویا عملا وہ سات سال ہی تھی۔اب جب یہ ثابت ہو گیا کہ نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر سات سال کی تھی تو اگلا حساب کوئی مشکل کام نہیں رہتا۔یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت عائشہ کی شادی شوال ۱۰ نبوی میں ہوئی تھی۔اور یہی تاریخ جمہور مؤرخین میں مسلم ہے گویا شوال ۱۰ نبوی میں حضرت عائشہ کی عمر سات سال یا اس کے قریب تھی۔اس کے بعد ربیع الاول ۱۴ نبوی میں ہجرت ہوئی۔اس طرح شادی اور ہجرت کے درمیان کا عرصہ تین سال اور کچھ ماہ بنتا ہے اور ہجرت کے وقت حضرت عائشہ کی عمر دس سال اور کچھ ماہ کی قرار پاتی ہے اس کے بعد ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہجرت اور رخصتانہ کے درمیان کا عرصہ کس قدر ہے۔یہ مسلم ہے کہ ہجرت ربیع الاوّل میں ہوئی ، اس لیے ہجرت کا پہلا سال ساڑھے نو ماہ کا ہوا اور پھر چونکہ رخصتا نہ شوال ۲ ہجری میں ہوا اس لیے ساڑھے نو ماہ ہی دوسرے سال کے ہوئے اور یہ دونوں عرصے مل کر ہجرت اور رخصتانہ ا : ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۹۴ سیرت حلبیہ جلد ۳ صفحه ۳۵۲ : ابن سعد جلد ۸ صفحه ۳۹ ۵ : طبری جلد ۳ صفحه ۱۲۵۵ : سیرت حلبیہ جلد ۱ صفحه ۳۷۹