سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 486 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 486

۴۸۶ شادی عموماً بیس سال بلکہ بسا اوقات اس سے بھی زیادہ عمر میں ہوتی ہے لیکن ہمارے ہاں اگر کوئی لڑکی ہیں سال کی عمر تک بغیر شادی کے بیٹھی رہے تو عموماً لوگوں میں انگشت نمائی شروع ہو جاتی ہے کہ اس میں کوئی نقص ہوگا تبھی اسے کوئی رشتہ نہیں ملا کیونکہ یہاں بلوغ کی اوسط عمر تیرہ چودہ سال ہے۔عرب کا ملک چونکہ ہندوستان کی نسبت بھی زیادہ گرم اور خشک ہے اس لیے وہاں کے سن بلوغ کی اوسط ہندوستان سے بھی گری ہوئی ہے اور کئی لڑکیاں ایسی ملتی ہیں جو نو دس سال کی عمر میں ہی سن بلوغ کو پہنچ جاتی ہیں۔اندریں حالات حضرت عائشہ کا نو یا دس سال کی عمر میں بالغ ہو کر رخصتانہ کے قابل ہو جانا ہرگز قابلِ تعجب نہیں سمجھا جاسکتا۔خصوصاً جبکہ اس امر کو مد نظر رکھا جاوے کہ حضرت عائشہ میں نشو و نما کا مادہ غیر معمولی طور پر زیادہ تھا۔جیسا کہ سرولیم میور نے بھی اپنی کتاب میں تسلیم کیا ہے۔بہر حال اب حضرت عائشہ پوری طرح بالغ تھیں اور ہجرت کے بعد شوال ۲ ہجری میں ان کا رخصتانہ ہوا۔اس وقت حضرت عائشہ کی والدہ مدینہ کے مضافات میں ایک جگہ الشنع نامی میں مقیم تھیں ؛ چنانچہ انصار کی عورتوں نے وہاں جمع ہو کر حضرت عائشہ کو رخصتانہ کے لیے آراستہ کیا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود وہاں تشریف لے گئے اور اس کے بعد حضرت عائشہ اپنے گھر سے رخصت ہو کر حرم نبوی میں داخل ہو گئیں۔۔مہر پانچ سو درہم کیا بعض روایات کی رو سے چار سو درہم یعنی کم و بیش یک صد روپیہ تھا جو رخصتانہ کے وقت نقد ادا کر دیا گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں میں سے صرف حضرت عائشہ ہی وہ بیوی تھیں جو باکرہ ہونے کی حالت میں آپ کے نکاح میں آئیں۔باقی سب بیوہ یا مطلقہ تھیں اور اس خصوصیت کو حضرت عائشہ بعض اوقات اپنے امتیازات میں شمار کیا کرتی تھیں۔حضرت عائشہ کے رخصتانہ کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر قریباً پچپن سال کی تھی اور آپ حضرت عائشہ کی خوردسالی کا خیال کرتے ہوئے ان کے ساتھ بہت دلداری کا سلوک فرماتے اور ان کے جذبات کا خاص خیال رکھتے تھے ، چنانچہ ایک دفعہ جب چند حبشی شمشیر زن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو نیزہ کے کرتب دکھانے لگے تو آپ نے انہیں مسجد نبوی کے صحن میں کرتب دکھانے کے لیے ارشاد فرمایا اور خود حضرت عائشہ کو سہارا دے کر مکان کی دیوار کے ساتھ اپنی اوٹ میں لے کر کھڑے ہو گئے تا کہ وہ بھی ان لوگوں کے کرتب دیکھ لیں اور جب تک وہ اس فوجی تماشہ سے خود سیر نہیں ہو گئیں آپ وہاں سے : دیکھو لائف آف محمد صفحه ۱۷۱۱۱۰ : بخاری کتاب بدء الخلق نتز و پیج النبی : ابن سعد ۵ : ابن سعد مسلم : بخاری کتاب النکاح