سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 480
۴۸۰ جمہور مؤرخین نے نو سال کی عمر بیان کی ہے مگر اس کے مقابلہ میں بعض جدید محققین نے مختلف قسم کے استدلالات سے چودہ سال بلکہ سولہ سال تک عمر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ہر چند کہ ہم ان نو محققین کی رائے سے اتفاق نہیں رکھتے مگر حالات کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ نو سال کی عمر کا خیال بھی درست نہیں ہے۔بلکہ جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے رخصتانہ کے وقت حضرت عائشہ کی عمر پورے بارہ سال یا قریباً بارہ سال کی ثابت ہوتی ہے۔دراصل اس معاملہ میں متقدمین کو تو ساری غلطی اس وجہ سے لگی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ کے نو سال والے اندازے کو جو صحیح احادیث میں بیان ہوا ہے بالکل یقینی اور قطعی سمجھ کر کسی اور بات کی طرف توجہ نہیں کی ؛ حالانکہ ہر عقلمند آدمی سمجھ سکتا ہے کہ روایت کا صحیح ہونا اور بات ہے اور اندازے کا صحیح ہونا بالکل اور بات یعنی باوجود اس کے کہ یہ روائتیں جن میں حضرت عائشہ کا یہ اندازہ بیان ہوا ہے کہ رخصتانہ کے وقت میری عمر نو سال کی تھی اصل روایت کے لحاظ سے بالکل صحیح ہوں۔حضرت عائشہ کا یہ اندازہ خود اپنی ذات میں غلط ہو سکتا ہے۔جیسا کہ بسا اوقات لوگوں کے اندازے اپنی عمر کے متعلق غلط ہو جایا کرتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں جن لوگوں نے نو سال والے خیال کو غلط سمجھ کر آزادانہ تحقیق کرنی چاہی ہے انہوں نے یہ غلطی کی ہے کہ تحقیق کے سید ھے اور صاف راستہ کو ترک کر کے ایک ایسا پیچیدہ طریق اختیار کیا ہے کہ جو دل کی تسلی کا موجب نہیں ہوسکتا۔ہر فہمید شخص ہمارے ساتھ اتفاق کرے گا کہ سب سے زیادہ پختہ اور سب سے زیادہ آسان ذریعہ حضرت عائشہ کی عمر کا پتہ لگانے کا یہ ہے کہ ہمیں ایک طرف تو ان کی پیدائش کی تاریخ اور دوسری طرف ان کے رخصتانہ کی تاریخ کا پتہ چل جاوے کیونکہ ان دونوں تاریخوں کے معین ہو جانے کے بعد رخصتانہ کے وقت کی عمر کے متعلق کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہ سکتی۔پہلے ہم پیدائش کے سوال کو لیتے ہیں۔ابن سعد نے طبقات میں یہ روایت نقل کی ہے کہ گانت عَائِشَةُ وَلَدَتِ السَّنَةَ الرَّابِعَةَ مِنَ النُّبوَةِ فِى اَوَّلِهَا - یعنی حضرت عائشہ" ہم نبوی کے ابتدا میں پیدا ہوئیں تھیں۔حضرت عائشہ کی تاریخ پیدائش کے متعلق اس روایت کے سوا کوئی اور معین روایت ابتدائی مؤرخین کی کسی کتاب میں میری نظر سے نہیں گذری اور نہ ہی حدیث کی کسی کتاب میں اس کے متعلق کوئی روایت آتی ہے۔پس پیدائش کی تاریخ تو آسانی کے ساتھ معین ہوگئی اور وہ ابتدا ۴ نبوی ہے۔اب ہم دوسرے سوال کو لیتے ہیں جو رخصت نہ کی تاریخ سے تعلق رکھتا ہے۔اس میں بیشک روایات میں اختلاف ہے۔بعض روایات میں یہ تاریخ شوال اہجری بیان ہوئی ہے اور بعض میں شوال ۲ ہجری لیکن غور : طبقات ابن سعد جلد ۸ صفحه ۵۴