سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 481
۴۸۱ کیا جاوے تو مؤخر الذکر روایات زیادہ صحیح قرار پاتی ہیں۔شوال اہجری والی روایت کا اصل منبع ابن سعد ہے جس نے ایک سلسلہ رواۃ کے ذریعہ اس روایت کو حضرت عائشہ تک پہنچایا ہے۔اور اکثر مورخین نے ابن سعد والی روایت پر ہی بنا رکھ کر رخصتانہ کی تاریخ شوال اہجری قرار دی ہے لیکن گوا بن سعد خود اپنی ذات میں ثقہ ہے مگر اس روایت میں اس کے راویوں میں ایک راوی واقدی ہے جس کے غیر ثقہ اور نا قابل اعتماد بلکہ جھوٹا ہونے کے متعلق محققین نے قریباً قریباً اجماع کیا ہے۔پس محض اس واقدی والی روایت پر جبکہ وہ دوسری روایات کے خلاف ہو ایک تاریخی واقعہ کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔اس کے مقابلہ پر علامہ نووی علامہ عینی اور قسطلانی اور بعض دوسرے محققین نے شوال ۲ ہجری والی روایت کو صحیح اور قابل ترجیح قرار دیا ہے۔۔اور علامہ نووی نے تو بڑی صراحت اور اصرار کے ساتھ لکھا ہے کہ اس روایت کے مقابلہ میں شوال اہجری والی روایت کمزور اور قابل رد ہے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ صرف اس بنا پر کہ عام مؤرخین نے شوال ۱ہجری والی روایت کی تقلید کی ہے ہم ایک زیادہ مضبوط خیال کو رد کر دیں اور دراصل عام مؤرخین نے بھی واقدی کی روایت کو محض اس خیال سے نوازا ہے کہ وہ نو سال والی عمر کے اندازے کے ساتھ جو صحیح احادیث میں بیان ہوا ہے زیادہ مطابقت کھاتی ہے، چنانچہ زرقانی جیسا محقق صاف لکھتا ہے کہ شوال ۲ ہجری والی روایت اس لیے قابل قبول نہیں ہے کہ اس طرح نو سال سے زیادہ ہو جاتی ہے۔حالانکہ جب خود عمر کا سوال اور عمر کی روایتیں ہی زیر بحث ہوں تو کسی خاص روایت کو صحیح فرض کر لینا درست نہیں ہے اور پھر جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں نو سال والے اندازے کو غلط ماننے کے یہ معنے نہیں ہیں کہ نو سال والی روایتیں بھی غلط ہیں اور پھر تعجب یہ ہے کہ خود علامہ زرقانی نے دوسری جگہ 2 شوال ۲ ہجری والے قول کو مقدم کیا ہے۔اندریں حالات شوال اہجری والی روایت شوال ۲ ہجری والی روایت کے مقابلہ میں قابل قبول نہیں مجھی جاسکتی اور حقیقت یہی معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عائشہ کا رخصتانہ شوال ۲ ہجری میں ہوا تھا۔واللہ اعلم اب جب پیدائش اور رخصتانہ کی تاریخوں کی تعیین ہوگی تو عمرکا پتہ لگا نا کوئی مشکل کام نہیں ہے بلکہ یہ : طبقات جلد ۸ صفحه ۴۰،۳۹ : تہذیب التہذیب جلد ۹ صفحه ۳۶۶ تا ۳۶۸ سے : نووی بحوالہ زرقانی جلد اصفحه ۴ ۳۷ وجلد ۳ صفحه ۲۳۰۔عینی شرح بخاری جلد اصفحہ۴۵۔مواہب اللہ نیہ ذکر حضرت عائشہ و تاریخ یا فعی اور وفا واسدالغابہ بحوالہ میں جلد اصفحه ۴۰۳ ۴، ۵ : زرقانی جلد ۳ صفحه ۲۳۰ زرقانی جلد ۲ صفحه و جلد ۳ صفحه ۲۰۳