سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 479
حضرت عائشہ کا رخصتانہ اور ان کی عمر کی بحث تعدد ازدواج کا مسئلہ۔دو فرضی واقعات حضرت عائشہؓ کا رخصتانہ، ماہ شوال ۲ ہجری کتاب کے حصہ اول میں یہ ذکر گذر چکا ہے۔حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ کے ساتھ شادی فرمائی تھی یہ سنہ نبوی کا دسواں سال اور شوال کا مہینہ تھا۔اور اُس وقت حضرت عائشہ کی عمر سات سال کی تھی یہ مگر معلوم ہوتا ہے کہ اُن کا نشو ونما اس وقت بھی غیر معمولی طور پر اچھا تھا؛ ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ خولہ بنت حکیم کو جو ان کے نکاح کی محرک بنی تھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی کے لیے اُن کی طرف خیال جاتا لیکن بہر حال ابھی تک وہ بالغ نہیں ہوئی تھیں، اس لیے اُس وقت نکاح تو ہو گیا مگر رخصتانہ نہیں ہوا اور وہ بدستور اپنے والدین کے پاس مقیم رہیں ، لیکن اب ہجرت کے دوسرے سال جب کہ اُن کی شادی پر پانچ سال گذر چکے تھے اور ان کی عمر بارہ سال کی تھی وہ بالغ ہو چکی تھیں ، چنانچہ خود حضرت ابو بکر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر رخصتانہ کی تحریک کی۔جس پر آپ نے مہر کی ادائیگی کا انتظام کیا۔(اس زمانہ میں مہر کے نقد ادا کرنے کا دستور تھا۔) اور ماہ شوال ۲ ہجری میں حضرت عائشہ اپنے والدین کے گھر سے رخصت ہوکر حرم نبوی میں داخل ہو گئیں۔یہ سوال کہ رخصتانہ کے وقت حضرت عائشہ کی عمر کتنی تھی اس زمانہ میں ایک اختلافی سوال بن گیا ہے۔عام کتب تاریخ اور کتب حدیث میں حضرت عائشہ کی عمر نو یا دس سال کی بیان ہوئی ہے حتی کہ صحیح بخاری میں خود حضرت عائشہ سے بھی یہ روایت مروی ہے کہ رخصتانہ کے وقت میری عمر صرف نو سال تھی اور اسی بنا پر : استیعاب صفحه ۷۶۵ سطر ۷، ۸ : ابن ہشام جلد ۳ ذکر ازواج النبی طبرانی بحوالہ زرقانی جلد ۳ صفحه ۲۳۱ ۴: عینی جلد اصفحه ۴۵