سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 471 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 471

چونکہ اس معاملہ میں بعض مسلمان علماء نے بھی اختلاف کیا ہے اور مسیحی مؤرخین نے بھی اسے اعتراض کا نشانہ بنایا ہے اس لئے اس کے متعلق کسی قدر تشریح کے ساتھ لکھنا ضروری ہے۔سوسب سے پہلے تو جاننا چاہئے کہ سورۃ محمد کی آیت سے جس کا حوالہ اوپر دیا جا چکا ہے نہایت واضح طور پر پتہ لگتا ہے کہ جنگی قید یوں کا قتل کرنا جائز نہیں ہے اور قرآنی فیصلہ کے بعد کسی کو حق نہیں ہے کہ کوئی اور طریق تجویز کرے لیکن ناظرین کی مزید تسلی کے لئے ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ قرآنی آیت کے جو معنے ہم نے کئے ہیں اس زمانہ کی اختراع نہیں ہے بلکہ یہی معنے صحابہ بھی کرتے تھے اور اسی پر ان کا عمل تھا۔چنانچہ حدیث میں روایت آتی ہے کہ: عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ الْحَجَّاجَ أُتِيَ بِأَسِيرٍ فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَقُمْ فَاقْتُلُهُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَا بِهَذَا أمِرُنَا يَقُولُ اللهُ تَعَالَى حَتَّى إِذَا الْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوِثَاقَ فَإِمَّا مَنَّا بَعْدُوَ إِمَّا فِدَاءً یعنی حسن روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حجاج کے سامنے ایک قیدی پیش ہوا اس وقت حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بھی پاس تھے۔حجاج نے ابن عمرؓ سے کہا ” آپ اٹھیں اور اس قیدی کی گردن اڑا دیں۔ابن عمرؓ نے جواب دیا۔ہمیں اس کا حکم نہیں دیا گیا۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ جب جنگ میں قیدی پکڑے جائیں تو ان کو یا تو احسان کے طور پر چھوڑ دینا چاہئے یا فدیہ لے کر رہا کر دینا چاہئے قتل کرنے کا کوئی حکم نہیں ہے۔“ اسی طرح حسن بصری اور عطاء بن ابی رباح سے روایت آتی ہے کہ : لا تُقتَلُ الأسرى يُتَخَيَّرُ بَيْنَ الْمَنِّ وَالْفِدَاءِ یعنی قیدی قتل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لئے یہی حکم ہے کہ یا تو اسے احسان کے طور پر چھوڑ دیا جاوے اور یا فدیہ لے کر رہا کر دیا جاوے۔“ قرآن شریف کی محولہ بالا واضح آیت کے ساتھ یہ واضح تشریح مل کر اس بات میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں چھوڑتی کہ قیدیوں کے قتل کے جواز کا مسئلہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہے اور اسلام ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی جنگی قیدی کو قتل کیا جاوے اور اگر اس جگہ یہ سوال ہو کہ پھر اس معاملہ میں بعض مسلمان علماء کو غلطی کیوں لگی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ غلط فہمی صرف اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ تاریخ میں بظاہر ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جن جنگی قیدیوں کے قتل کا حکم دیا کتاب الخراج قاضی ابو یوسف صفحه ۱۲۱ : فتح الباری جلد ۶ صفحه ۱۰۶