سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 472
۴۷۲ تھا وہ جنگی قیدی ہونے کی حیثیت میں قتل نہیں کئے گئے بلکہ ان کے قتل کی وجہ یہ تھی کہ وہ بعض دوسرے جرائم کی وجہ سے واجب القتل تھے اور یہ ظاہر ہے کہ اگر کوئی قیدی کسی ایسے جرم کا مرتکب ہوا جس کی سز اقتل ہے تو اس کا قیدی ہونا اسے اس سزا سے نہیں بچا سکتا۔اگر ایک آزاد شخص کسی جرم کی سزا میں قتل کیا جاسکتا ہے تو ایک قیدی کیوں نہیں کیا جاسکتا۔پس جیسا کہ اپنے اپنے موقع پر ثابت کیا جائے گا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے جو جو قیدی بھی قتل کیا گیا وہ اس جرم کی بناء پر قتل نہیں کیا گیا کہ وہ ایک دشمن فوج کا سپاہی یا ایک جنگجو قوم کا فرد ہے بلکہ وہ اس وجہ سے قتل کیا گیا کہ وہ کسی ایسے جرم کا مرتکب ہو چکا تھا جس کی سزا قتل تھی لیکن بعض علماء نے صرف ظاہری حالت کو دیکھ کر کہ بعض قیدی قتل کر دیئے گئے تھے یہ نتیجہ نکال لیا کہ قیدی کو قتل بھی کیا جاسکتا ہے حالانکہ یہ بات اسلامی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تعامل ہر دو کے لحاظ سے قطعاً غلط اور بے بنیاد ہے۔یہ اس تعلیم کا ڈھانچہ ہے جو اسلام نے جنگی قیدیوں کے متعلق دی ہے اور ہر عقل مند شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ ایک نہایت منصفانہ قانون ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ خدا نے دنیا کو عطا کیا ہے اور موجودہ زمانہ کی ترقی یافتہ اور مہذب کہلانے والی اقوام بھی اس سے بہتر قانون دنیا کو نہیں دے سکیں کہ جس میں اگر ایک طرف جنگ کے ناواجب طور پر طول پکڑ جانے اور بین الاقوامی مظالم کا سد باب کیا گیا ہے تو دوسری طرف احسان و مروت کے پہلو کو بھی بہترین صورت میں قائم رکھا گیا ہے۔بلکہ اگر غور کیا جاوے تو اس قانون میں دشمن کے ساتھ نرمی اور احسان کا پہلو اپنی حفاظت کے پہلو سے بھی غالب ہے اور یقیناً آج تک کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس نے اپنے خونی دشمن کے ساتھ جو اسے ملیا میٹ کر دینے کے درپے ہو ایسے منصفانہ اور محسنانہ سلوک کا حکم دیا ہو۔لونڈیوں کا مخصوص مسئلہ اب ہم ایک لفظ لونڈیوں یعنی غلام عورتوں کے متعلق کہہ کر غلامی کی بحث کو ختم کرتے ہیں۔یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کی عام اجازت دے کر نعوذ باللہ اپنے متبعین کے لئے تعیش کا دروازہ کھول دیا ہے۔اس کے متعلق ہم سب سے پہلے اصولی طور پر یہ بتادینا چاہتے ہیں کہ اسلام میں مرد و عورت کے مخصوص تعلق کی غرض وغایت کیا رکھی گئی ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے اعمال کو حج کرنے اور ان کے پیچھے جو نتیں مخفی تھیں ان کا پتہ لگانے کے لئے سب سے زیادہ صحیح ذریعہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جاوے کہ جس مذہب کے احکام کی تعمیل میں آپ اور آپ کے صحابہ یہ اعمال بجالاتے اور ان کی