سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 464
۴۶۴ طریق اختیار نہ کیا جاتا تو بین الاقوام جنگوں کا کبھی بھی خاتمہ نہ ہوسکتا اور ظالم لوگ اپنی دراز دستیوں اور امن شکن کارروائیوں سے باز نہ آتے اور ظلم و ستم کا میدان وسیع ہوتا چلا جاتا۔چنانچہ تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ اس قسم کی غلامی کا طریق ابتدائی زمانہ میں تمام اقوام عالم میں کم و بیش پایا جاتا تھا۔حتی کہ بنو اسرائیل میں بھی جو نبیوں کی اولاد تھے اور کثیر التعداد نبیوں کے تربیت یافتہ تھے یہ طریق کثرت کے ساتھ رائج تھا بلکہ اسرائیلی شریعت نے خود اس کا حکم دیا تھا۔اور اگر غور کیا جاوے تو اس ابتدائی زمانہ میں مذہبی جماعتوں کے لئے اس کی ضرورت دوسری قوموں کی نسبت بھی زیادہ تھی۔کیونکہ جیسا کہ قاعدہ ہے مذہبی سلسلوں کی سخت مخالفت ہوتی تھی اور دوسری قومیں انہیں تلوار کے زور سے مٹانے کے لئے کھڑی ہو جاتی تھیں۔پس انہیں بھی دفاع اور خود حفاظتی میں غلامی وغیرہ کے طریق اختیار کرنے پڑتے تھے۔اسی طرح مسیحی قوم میں بھی جو دراصل بنواسرائیل ہی کی ایک شاخ تھے غلامی کا سلسلہ جاری رہا ہے بلکہ اب تک بھی حبشہ کے عیسائی ملک میں جو اس وقت تک ابتدائی مسیحی روایات پر بڑی سختی کے ساتھ قائم ہے غلامی کا رواج پایا جاتا ہے بلکہ شاید اس ملک کی غلامی دوسرے ممالک کی غلامی سے بھی سخت تر ہے۔اسی طرح ہندوستان کی قدیم آریہ قوم میں بھی غلامی کا رواج تھا۔چنانچہ یہ شودر وغیرہ جو آج تک ہندوستان میں پائے جاتے ہیں یہ اسی سلسلہ غلامی کا ایک ناگوار بقیہ ہیں۔الغرض ابتدائی زمانوں میں غلامی کا رواج کم و بیش سب ممالک اور سب اقوام میں پایا جاتا تھا اور یہ ان زمانوں کے حالات کا لازمی نتیجہ تھا۔اور اس کی غرض ظلم وستم کا سد باب تھی اور پھر یہ کہ اس کی سب سے زیادہ ضرورت بلکہ حقیقی ضرورت صرف مذہبی جماعتوں کو تھی جو سب سے زیادہ مظالم کا تختہ مشق بنتی تھیں اور لوگ ان کے مذہب کو تباہ کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے تھے اور اس رنگ کی غلامی جسے اسلام نے اور بھی پاک وصاف کر دیا حتی کہ وہ حقیقتاً ایک محض قید کی صورت اختیار کر گئی کوئی نا انصافی نہیں تھی کیونکہ جو قوم دوسروں کے مذہب کو تلوار کے زور سے مٹانا چاہتی ہے اور ظالم و سفاک ہے اور امن شکنی کا طریق اختیار کر کے ملک میں فتنہ وفساد اور قتل وغارت کا بیج ہوتی ہے وہ ہرگز آزادی کی حق دار نہیں سمجھی جاسکتی جیسے کہ ایک چور یا ٹھگ یا ڈا کو جیل خانہ سے باہر رہنے کا حقدار نہیں سمجھا جاتا اور یہ مظالم سب سے زیادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو پیش آئے۔ہمارے استثناء باب ۲۰ آیت ۱۴۱۳ افسیوں باب ۶ آیت ۵ و پطرس باب ۲ آیت ۱۸ موجودہ ایڈیشنوں میں اس جگہ غلام کی جگہ نوکر کا لفظ ہے مگر جیسا کہ سیاق وسباق سے ظاہر ہوتا ہے اصل مفہوم غلام ہی کا ہے۔