سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 450
۴۵۰ مساعی جمیلہ سے داغ غلامی سے نجات پاگئے۔چنانچہ مندرجہ ذیل فہرست جو یقیناً مکمل نہیں ہے اور جس میں نمونہ کے طور پر صرف چند صحابیوں کا نام لیا گیا ہے ہمارے اس دعوی کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔سُبُلُ السَّلام میں روایت آتی ہے کہ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ نے حضرت عباس نے حکیم بن حزام نے تریسٹھ غلام آزاد کئے سٹر سٹھ غلام آزاد کئے ستر غلام آزاد کئے یکصد غلام آزاد کئے عبداللہ بن عمر نے عبدالرحمن بن عوف نے ایک ہزار غلام آزاد کئے تین ہزار غلام آزاد کئے حضرت عثمان بن عفان نے ہیں غلام آزاد کئے صرف ایک دن میں جو ان کی شہادت کا دن تھا ؤ الا ان کی مجموعی تعداد بہت زیادہ تھی ذوالکلاع الحمیری نے آٹھ ہزار غلام آزاد کئے صرف ایک دن میں میزان انتالیس ہزار تین سو بیس لے جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے اس روایت میں بطور نمونہ صرف چند صحابہ کا نام لیا گیا ہے اور اگر اسی نسبت سے دوسرے کثیر التعداد صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین کے متعلق قیاس کیا جاوے تو یہ تعداد یقیناً کروڑوں سے اوپر پہنچتی ہے لیکن حق یہ ہے کہ اس روایت میں جو تعداد مذکورہ بالا صحابہ کے آزاد کردہ غلاموں کی بیان کی گئی ہے وہ بھی درست نہیں بلکہ اصل تعداد اس سے بہت زیادہ ہے۔مثلاً حضرت عائشہ کے متعلق ایک روایت سے ثابت ہے کہ انہوں نے صرف ایک موقع پر چالیس غلام آزاد کئے تھے۔نے اور دوسری روایت سے پتہ لگتا ہے کہ ان کا یہ طریق تھا کہ وہ نہایت کثرت کے ساتھ غلام آزاد کیا کرتی تھیں۔پس ان کے متعلق یہ خیال کرنا کہ انہوں نے ساری عمر میں صرف ستاسٹھ غلام آزاد کئے تھے یقیناً درست نہیں۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو تعداد بتائی گئی ہے وہ گو آپ کی ذاتی حیثیت میں درست ہو کیونکہ آپ کی ذاتی مالی حالت اچھی نہیں تھی اور آپ ان احکامات کے جاری ہونے : سُبل السلام شرح بلوغ المرام كتاب العتق : بخاری کتاب الادب باب الحجرت