سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 451 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 451

۴۵۱ کے بعد زندہ بھی بہت تھوڑا عرصہ رہے تھے ، لیکن یقیناً اس تعداد میں وہ غلام شامل نہیں ہیں جو آپ نے اسلامی حکومت کے ہیڈ ہونے کی حیثیت میں آزاد کئے اور جن کی تعداد بہت زیادہ تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایک اور بات بھی یاد رکھنی چاہئے اور وہ یہ کہ آپ کے متعلق بہت سی روایات سے ثابت ہے کہ کبھی کوئی ایک غلام بھی آپ کے قبضہ میں نہیں آیا کہ اسے آپ نے آزاد نہ کر دیا ہو۔چنانچہ مندرجہ ذیل روایت میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ اَخِى جُوَيْرِيَةَ أَمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ مَاتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهِ دِرْهَمًا وَلَا دِيْنَاراً وَلَا عَبْداً وَلَا اَمَةً یعنی " عمرو بن الحارث سے روایت ہے جو ام المؤمنین جویریہ کے حقیقی بھائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سالے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی موت کے وقت کوئی درہم کوئی دینار کوئی غلام اور کوئی لونڈی اپنے پیچھے نہیں چھوڑی۔“ الغرض اسلام کی یہ تعلیم جو اس نے غلاموں کے متعلق دی صرف کاغذوں کی زینت نہیں تھی بلکہ یہ تعلیم اسلامی تہذیب و تمدن اور اسلامی طریق معاشرت کا ایک ضروری جزو بن گئی تھی اور افراد و حکومت دونوں پورے شوق کے ساتھ اس پر عمل پیرا تھے۔آزاد شدہ غلاموں کے لئے تمام یہ بتایا جا چکا ہے کہ غلاموں کو آزادی اس اطمینان کے بعد دی جاتی تھی کہ وہ اخلاق وعادات اور روزی کمانے کی اہلیت ترقی کے دروازے کھلے تھے کے لحاظ سے آزادی کے قابل ہوجائیں۔اب ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جو غلام آزاد کئے جاتے تھے وہ واقعی مفید شہری بن جاتے تھے اور اسلامی سوسائٹی میں ویسے ہی معزز و مکرم سمجھے جاتے تھے جیسے کہ دوسرے لوگ۔بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق تھا کہ لوگوں کے پرانے خیالات کی اصلاح کی غرض سے آپ غلاموں اور آزاد شدہ غلاموں میں سے قابل لوگوں کی تعظیم و تکریم کا خیال دوسرے لوگوں کی نسبت بھی زیادہ رکھتے تھے۔چنانچہ آپ نے بہت سے موقعوں پر اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ اور ان کے لڑکے اسامہ بن زید کو جنگی مہموں میں امیر مقرر فرمایا اور بڑے بڑے صاحب عزت اور جلیل القدر صحابیوں کو ان کے ماتحت رکھا اور جب نا سمجھ لوگوں نے اپنے پرانے خیالات کی بنا پر آپ کے اس فعل پر اعتراض کیا تو آپ نے فرمایا : ل بخاری بروایت مشکوۃ باب وفات النبی صلی اللہ علیہ وسلم