سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 449
۴۴۹ لِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهِمْ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْبَرُهُ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ لَعَلَّكَ أَغْضَبْتَهُمْ لَئِنْ كُنْتَ أَغْضَبْتَهُمْ لَقَدْ أَغْضَبْتَ رَبَّكَ فَأَتَاهُمْ أَبُوْبَكْرٍ فَقَالَ يَا إِخْوَتَاهُ أَغَضَبْتُكُمْ قَالُوا لَا يَغْفِرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَخِي يا یعنی ایک دفعہ سلمان اور صہیب اور بلال وغیرہ جو آزاد شدہ غلام تھے ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے ان کے سامنے سے ابوسفیان گزرا تو انہوں نے آپس میں کہا کہ یہ خدا کا دشمن خدائی تلوار سے بچ گیا ہے۔حضرت ابو بکر نے ان کی یہ بات سنی تو انہیں فہمائش کی اور کہا کہ کیا تم قریش کے سردار کے متعلق ایسی بات کہتے ہو؟ اس کے بعد ابو بکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے سارا ماجرا عرض کیا۔آپ نے فرمایا ابوبکر اتم نے بلال وغیرہ کو کہیں ناراض تو نہیں کر دیا ؟ اگر تم نے انہیں ناراض کیا ہے تو ان کی ناراضگی میں خدا کی ناراضگی ہے۔حضرت ابوبکر فور ابلال وغیرہ کے پاس واپس آئے اور کہا بھائیو! تم میری بات پر ناراض تو نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا نہیں بھائی ہم ناراض نہیں ہوئے۔فکر نہ کرو۔“ مسلمانوں نے غلاموں کی آزادی کی تعلیم پر کس طرح عمل کیا اب صرف یہ سوال رہ جاتا ہے کہ ان سفارشات اوران کفارہ جات اور جبری آزادیوں اور اس انتظام مکاتبت کے نتیجے میں غلاموں کی آزادی عملاً بھی وقوع میں آئی یا نہیں ؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے اس زمانہ میں غلام نہایت کثرت کے ساتھ پائے جاتے تھے۔حتی کہ بعض ممالک میں بعض اوقات غلاموں کی تعداد اصل آبادی سے بھی زیادہ ہو جاتی تھی۔ہے پس اس غیر متناہی ذخیرہ کو ختم کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا اور نہ ہی یہ سارے غلام محدود اسلامی سلطنت اور محدودتر مسلمان مالکوں کے ماتحت تھے۔پس لازماًیہ آزادی کی تحریک آہستہ آہستہ ہی چل سکتی تھی لیکن تاریخ سے ثابت ہے کہ جہاں تک صحابہ اور ان کے متبعین کی کوشش کا تعلق تھا انہوں نے غلاموں کے آزاد کرنے اور آزاد کرانے میں اپنی پوری توجہ اور پوری سعی سے کام لیا اور وہ نمونہ دکھایا جو یقیناً تاریخ عالم میں اپنی نظیر نہیں رکھتا۔چنانچہ تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ اس زمانہ میں مسلمان نہ صرف اپنے ہاتھ میں آئے ہوئے غلاموں کو کثرت سے آزاد کرتے رہتے تھے بلکہ خاص اس نیت اور اس ارادے سے غلام خرید تے بھی تھے کہ انہیں خرید کر آزاد کر دیں اور اس طرح بے شمار غلام مسلمانوں کی نے مسلم باب فضائل سلمان و صہیب و بلال انسائیکلو پیڈیا برٹینی کا بحث غلامی