سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 445 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 445

۴۴۵ وہ اس سے مناسب رقم پیدا کرنے کی شرط کر کے اسے آزاد کر دے۔چنا نچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَالَّذِيْنَ يَبْتَغُونَ الْكِتَبَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِم وَاتُوهُمْ مِنْ قَالِ اللَّهِ الَّذِى اتُكُمْ یعنی ”اے مسلمانو! تمہارے غلاموں میں سے جو غلام تم سے مکاتبت کا عہد کرنا چاہیں تمہارا فرض ہے کہ ان سے مکاتبت کا عہد کر کے انہیں آزاد کر دو بشرطیکہ وہ آزادی کے اہل بن چکے ہوں اور ایسی صورت میں تمہارا یہ بھی فرض ہے کہ اس مال میں سے انہیں بھی حصہ دو جو دراصل تو خدا کا ہے مگر خدا نے اس مکاتبت کے نتیجہ میں تمہیں عطا کیا ہے۔“ یہ آیت غلاموں کی جبری آزادی کے انتظام کا بنیادی پتھر ہے اور اس کے الفاظ بہت مختصر ہیں مگر اس کے معانی نہایت وسیع اور نہایت وقیع ہیں۔اس میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ جو غلام ان کے ساتھ مکاتبت کا عہد کر کے آزاد ہونا چاہیں ان کا فرض ہے کہ انہیں آزاد کر دیں بشرطیکہ وہ آزادی کے قابل بن چکے ہوں اور مکا تبت کے عہد سے یہ مراد ہے کہ غلام اور آقا کے درمیان یہ فیصلہ ہو جاوے کہ اگر غلام اپنے آقا کو اس قدر رقم ادا کر دے گا تو وہ آزاد سمجھا جائے گا اور اس کا طریق یہ تھا کہ اس قسم کے فیصلہ کے بعد غلام عملاً آزاد ہو جاتا تھا اور اس نیم آزادی کی حالت میں وہ کوئی کام یا پیشہ از قسم تجارت یا صنعت و حرفت یا زراعت یا ملازمت وغیرہ اختیار کر کے مکاتبت کی رقم پوری کرنے کی کوشش کرتا تھا اور جب یہ رقم پوری ہو جاتی تھی تو وہ کلی طور پر آزاد سمجھا جاتا تھا اور مکا تبت کی رقم گومالک کے تصرف میں سمجھی جاتی تھی مگر مالک کا یہ فرض تھا کہ اس میں سے مناسب حصہ غلام کو بھی دے۔یہ انتظام ایسا مبارک اور پر حکمت تھا کہ اس کے نتیجہ میں غلاموں میں سے اہل لوگ نہ صرف خود بخو د بطور حق کے آزاد ہوتے چلے جاتے تھے بلکہ بوجہ اس کے کہ انہیں مکاتبت کی رقم پوری کرنے کے لئے کسی آزاد نہ کام میں پڑنا پڑتا تھا اور ایک سول معاہدہ کی ذمہ داری برداشت کرنی پڑتی تھی۔ان میں آزاد زندگی گزار نے اور ملک کے مفید شہری بننے کی قابلیت بھی پیدا ہو جاتی تھی۔مکاتبت کا یہ انتظام مالک کی مرضی پر منحصر نہیں تھا بلکہ جبری تھا۔یعنی غلام کی طرف سے مکاتبت کا مطالبہ ہونے پر مالک کو انکار کا حق نہیں ہوتا اور یہ کام عدالت یا حکومت کا تھا کہ وہ اس بات کا فیصلہ کرے کہ آیا غلام آزادی کے قابل ہو چکا ہے یا نہیں۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ : ا: سورة نور : ۳۴