سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 444
۴۴۴ مسلمانوں نے بھی ان کی سفارش کی مگر اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراض ہوئے۔چنانچہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں : غَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَبى أَنْ يَرُدَّهُمْ وَقَالَ هُمْ عُتَقَاءُ اللهِ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر سخت ناراض ہوئے اور غلاموں کے واپس کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ یہ تو خدا کے آزاد کردہ غلام ہیں۔کیا میں انہیں پھر غلامی اور شرک کی 66 طرف لوٹا دوں۔“ پھر حدیث میں آتا ہے: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا رَجُلٍ وَلَدَتْ آمَتُهُ مِنْهُ فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرِمِنْهُ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اُمُّ الْوَلَدِ حُرَّةٌ وَإِنْ كَانَ سَقْط یعنی ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص اپنی لونڈی کے ساتھ رشتہ کرلے اور اسے آزاد نہ بھی کرے تو پھر بھی اگر اس لونڈی کے بطن سے اس کے ہاں کوئی اولاد ہو جاوے تو اس کے بعد وہ لونڈی خود بخود آزاد سمجھی جائے گی اور ایک روایت میں یوں ہے کہ اُمّ وَلَد بیوی بہر حال آزاد کبھی جائے گی خواہ بچہ کی پیدائش اسقاط کی صورت میں ہی ہو۔“ غلاموں کی آزادی کے لئے ایک مستقل انتظا تلف طریقے جبری آزادی کے تھے جو اسلام نے قائم کئے۔مگر ظاہر ہے کہ باوجود ان جبری آزادیوں کے پھر بھی بہت سے غلام ایسے رہ جاتے تھے جو ان صورتوں میں سے کسی صورت سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے اور دوسری طرف عام سفارشی رنگ میں ان کا آزادی حاصل کرنا یقینی نہیں تھا اس لئے ضروری تھا کہ کوئی ایسا مستقل اور پختہ انتظام کیا جاتا جس سے یہ موجود الوقت غلام خود بخود آزادی حاصل کرتے جاتے۔سو اس کے متعلق اسلام نے وہ پُر از حکمت انتظام تجویز کیا جو مکا تبت کے نام سے موسوم ہوتا ہے اور جس میں مالک اس بات پر مجبور ہوتا ہے کہ اگر غلام اپنے حالات کے لحاظ سے (جس کا فیصلہ حکومت یا عدالت کے ہاتھ میں ہوتا ہے نہ کہ مالک کے ہاتھ میں ) آزادی کی اہلیت کو پہنچ چکا ہو تو کشف الغمہ باب امہات الاولاد ل : ابو داؤد کتاب الجہاد : ابن ماجہ کتاب العتق