سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 446 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 446

۴۴۶ إِنَّ سِيرِينَ سَأَلَ اَنَسًا الْمُكَاتِبَةَ وَكَانَ كَثِيرَ الْمَالِ فَابِي فَانْطَلَقَ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ كَاتِبُهُ فَأَبَى فَضَرَبَهُ بِالدُّرَّةِ وَيَتْلُو عُمَرُ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمُ فِيْهِمْ خَيْراً فَكَاتَبَهُ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی انس کا ایک غلام تھا جس کا نام سیرین تھا اس نے انس کے ساتھ مکاتبت کرنی چاہی مگر انس نے یہ خیال کر کے کہ میرے پاس بہت روپیہ ہے مجھے مکاتبت کے روپے کی ضرورت نہیں ہے۔مکاتبت سے انکار کر دیا۔اس پر سیرین نے حضرت عمر کے پاس حضرت انسؓ کی شکایت کی۔حضرت عمرؓ نے سیرین کی شکایت سن کر انس کو حکم دیا کہ وہ مکا تبت کریں ،لیکن انس نے پھر بھی نہ مانا۔جس پر حضرت عمرؓ نے انس کو ڈرہ سے مارا اور یہ قرآنی آیت سنائی کہ اے مسلمانو ! اگر تمہارے غلام تمہارے ساتھ مکاتبت کرنا چاہیں تو تمہارا فرض ہے کہ ان کے ساتھ مکا تبت کرو۔اس پر انس نے سیرین سے مکاتبت کا عہد کر لیا۔“ مکاتبت کی فرضیت کا دار ومدار اس بات پر تھا کہ آیا کوئی غلام آزادی حاصل کرنے کا اہل بن چکا ہے یا نہیں۔چنانچہ بیٹی بن کثیر سے روایت آتی ہے کہ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خَيْراً قَالَ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ حِرْفَةً وَلا تُرْسِلُوهُمْ كَلَّا عَلَى النَّاسِ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ یہ جو قرآن شریف میں آتا ہے کہ اگر تم غلاموں میں بھلائی پاؤ تو تمہارا فرض ہے کہ تم مکاتبت سے انکار نہ کرو۔اس میں بھلائی سے مراد پیشہ وغیرہ کی اہلیت ہے یعنی مقصود یہ ہے کہ ایسے غلاموں کے ساتھ مکا تبت ضروری ہو جاتی ہے جو کوئی پیشہ یا کام وغیرہ جانتے ہوں یا جلد سیکھ سکتے ہوں تا کہ وہ آزادی حاصل کرنے کے بعد سوسائٹی پر کسی قسم کے بوجھ کا باعث نہ بنیں۔“ اور یہ اوپر بتایا جا چکا ہے کہ اس بات کا فیصلہ کہ کوئی غلام اس بات کی اہلیت کو پہنچا ہے یا نہیں حکومت کے ہاتھ میں تھا نہ کہ مالک کی مرضی پر۔یہ حدیث اس بات کو بھی واضح کرتی ہے کہ دراصل اسلامی تعلیم کا اصل منشاء یہی تھا کہ موجود الوقت غلاموں کی حالت کو بہتر بنا کر انہیں آزادی کے قابل بنایا جاوے اور جوں جوں یہ غلام آزادی کے قابل ہوتے جائیں توں توں انہیں آزادی ملتی جاوے۔یہ مکاتبت کا طریق چونکہ غلاموں کی آزادی کے انتظام کا بنیادی پتھر تھا اس لئے اسلام میں اسے بخاری کتاب المكاتب ابوداؤد بحوالہ تفسیر ابن کثیر زیر تفسیر آیت مکاتبت