سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 416 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 416

۴۱۶ کہ وہ بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے ماتحت حالت قید میں قتل کر دیا گیا تھا۔مگر یہ درست نہیں ہے۔حدیث اور تاریخ میں نہایت صراحت کے ساتھ یہ روایت آتی ہے کہ عقبہ بن ابی معیط میدان جنگ میں قتل ہوا تھا اور ان رؤساء مکہ میں سے تھا جن کی لاشیں ایک گڑھے میں دفن کی گئی تھیں۔البتہ نضر بن حارث کا حالت قید میں قتل کیا جانا اکثر روایات سے ظاہر ہوتا ہے اور اس کے قتل کی وجہ یہ تھی کہ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو ان بے گناہ مسلمانوں کے قتل کے براہ راست ذمہ دار تھے جو مکہ میں کفار کے ہاتھ سے مارے گئے تھے۔اور اغلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ربیب حارث بن ابی ہالہ جوابتدا اسلام میں نہایت ظالمانہ طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کے سامنے قتل کئے گئے تھے۔ان کے قتل کرنے والوں میں نضر بن حارث بھی شامل تھا۔لیکن یہ یقینی ہے کہ نضر کے سوا کوئی قیدی قتل نہیں کیا گیا اور نہ ہی اسلام میں صرف دشمن ہونے اور جنگ میں خلاف حصہ لینے کی وجہ سے قیدیوں کے قتل کرنے کا دستور تھا۔چنانچہ اس کے متعلق بعد میں ایک معین حکم بھی قرآن شریف میں نازل ہوا۔یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ گو بہت سی روایات میں نضر بن حارث کے قتل کئے جانے کا ذکر آتا ہے لیکن بعض ایسی روایتیں بھی پائی جاتی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ قتل نہیں کیا گیا تھا بلکہ بدر کے بعد مدت تک زندہ رہا اور بالآخر غزوہ حنین کے موقع پر مسلمان ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہو گیا تھا۔مگر مقدم الذکر روایات کے مقابلہ میں یہ روایتیں عموماً کمزور سمجھی گئیں ہیں۔واللہ اعلم۔بہر حال اگر قیدیوں میں سے کوئی شخص قتل کیا گیا تو وہ صرف نضر بن حارث تھا جو قصاص میں قتل کیا گیا تھا اور اس کے متعلق بھی یہ روایت آتی ہے کہ جب اس کے قتل کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بہن کے وہ دردناک اشعار سنے جن میں آپ سے رحم کی اپیل کی گئی تھی تو آپ نے فرمایا کہ اگر یہ اشعار مجھے پہلے پہنچ جاتے تو میں نفر کو معاف کر دیتا۔بہر حال نضر کے سوا کوئی قیدی قتل نہیں کیا گیا بلکہ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکیدی حکم دیا تھا کہ قیدیوں کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا جاوے۔بدر سے روانہ ہوتے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ کو مدینہ کی طرف روانہ فرمایا ل : بخاری کتاب الوضوء و كتاب سترة المصلى و کتاب الجہاد ہے : ابن سعد جلد ۲ صفحہ ۱۵ : اصابه ذکر حارث سورة محمد : ۵ نیز دیکھو کتاب الخراج صفحه ۱۲۱ زرقانی حالات غزوہ بدر اور اسد الغابہ ذکر نضر بن حارث : ابن ہشام